صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 549 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 549

صحیح البخاری جلد ۲ ولدها ١٩ - كتاب التهجد أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَوْ قَدْ خَرَجَ فرمایا: جب تم میں سے کوئی ( مسجد میں ) آئے اور فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ۔ امام لوگوں سے مخاطب ہو یا وہ (خطبہ کے لئے ) نکل چکا ہو تو چاہیے کہ وہ دور کعتیں نماز پڑھ لے۔ اطرافه ۹۳۰، ۹۳۱ ١١٦٧: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ :۱۱۶۷: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: سیف بن حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِيُّ سلیمان کی نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُوْلُ أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ میں نے مجاہد سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابن عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ لَهُ رضی اللہ عنہما کے پاس اُن کے گھر میں کسی نے آ کر هَذَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ان سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تو آگئے ) قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ ہیں۔ آپ تو کعبہ میں داخل بھی ہو گئے ہیں۔ حضرت رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عبد اللہ کہتے تھے: میں آیا اور کیا دیکھا کہ رسول اللہ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا عِنْدَ الْبَابِ قَائِمًا صلى اللہ علیہ وسلم ( کعبہ سے) نکل آئے ہیں اور فَقُلْتُ يَا بِلَالُ {أَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ حضرت بلال کو دروازہ کے پاس کھڑا پایا۔ میں نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ قَالَ کہا: بلال! ( کیا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نَعَمْ قُلْتُ فَأَيْنَ قَالَ بَيْنَ هَاتَيْنِ کعبے میں نماز پڑھی ہے؟ حضرت بلال نے جواب الْأَسْطُوَانَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ دیا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ۔ دوستونوں کے درمیان ۔ اس کے بعد باہر آ کر آپ نے کعبے کے دروازے کے سامنے دور کعتیں پڑھیں۔ أطرافه ٣٩٧، ٤٦٨، ٥٠٤، 505، 506، ۱۱۷۱، ۱۳۹۸ ، ۱۵۹۹، ٢٩٨٨، ٤٤٠٠۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ الله ابو عبد الله (امام بخاری نے کہا: حضرت ما : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چاشت کی لفظ اصلی فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثالث حاشیہ صفحہ ۶۴)