صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 539 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 539

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۳۹ ١٩ - كتاب التهجد جائے۔کم ہیں جو صراط مستقیم پر ثابت قدم ہو کر چلیں۔لوگ یا افراط کی طرف نکل جاتے ہیں یا تفریط کی طرف۔بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ نمازیں پڑھنی شروع کیں تو کوئی حد و حساب نہیں اور جب غفلت وسہل انگاری سے کام لینے لگے تو پھر یا دہی نہیں کہ نماز کیا ہے یہ دونوں باتیں مذموم ہیں۔باب ۲۰ ١١٥٣ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۱۱۵۳ علی بن عبد اللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار) سے، الْعَبَّاسِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عمرو نے ابوالعباس ( سائب بن فروخ ) سے روایت کی کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ) رضی اللہ عنہما سے سنا۔انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَخْبَرْ أَنَّكَ مجھ سے فرمایا: کیا مجھے تمہارے ہی متعلق نہیں بتایا گیا کہ تم تَقُوْمُ اللَّيْلَ وَتَصُوْمُ النَّهَارَ قُلْتُ إِنِّي رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو؟ میں نے أَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ کہا: میں ایسا ہی کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا: اگر تم ایسا کرو هَجَمَتْ عَيْنُكَ وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ وَإِنَّ گے تو تمہاری آنکھیں بیٹھ جائیں گی اور تمہاری جان تھک کر لِنَفْسِكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ حَقًّا فَصُمْ رہ جائے گی اور دیکھو تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے اور وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَلَمْ۔تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو۔عبادت بھی کرو اور آرام بھی۔اطرافه: ۱۱۳۱، ۱۱۵۲ ، 1974، 1975، ۱۹۷۶، ۱۹۷۷، ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، ۱۹۸۰، -٥، ٦١٣٤، ٦٢٧٧۱۹۹ ،۵۰٥، ٥٤۰۵۳ ،۵۰۵۲ ،۳٤۲۰ ،٣٤١٨ ٣٤١٩ تشریح: إِنَّ لِنَفْسِكَ حَقًّا وَلَاهُلِكَ حَقًّا اس باب کا تعلق باب ۱۹۱۸ سے ہے۔اس لئے علیحدہ کوئی عنوان قائم نہیں کیا گیا۔بنو اسد کی عورت کا ذکر جو رات بھر عبادت کرتی تھی سن کر فرمایا: مــه عَلَيْكُم مَا تُطِيقُونَ مِنَ الأعْمَال فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُوا۔(روایت نمبر ۱۱۵۱) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حضرت عبداللہ بن عمرو کو بھی یہی نصیحت فرمائی۔جس پر انہوں نے پورے طور پر عمل نہ کیا اور آخر نتیجہ وہی ہوا جس سے آپ نے ان کو بایں الفاظ آگاہ کیا تھا۔یعنی هَجَمَتْ عَيْنكَ وَ نَفِهَتْ نَفْسُكَ۔آخری عمر میں حضرت عبد اللہ بن عمرو کی بینائی جاتی رہی اور کمزوری کی وجہ سے یہاں تک نوبت پہنچی کہ فرض نماز پڑھنے میں بھی دوسرے کے محتاج تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد کر کے رویا کرتے تھے۔امام موصوف نے ایک لطیف تعلق کی وجہ سے اس باب کا عنوان ترک کر دیا ہے۔عبادت کرنے سے انسان دو سبب سے محروم ہو سکتا ہے۔ایک سستی کی وجہ سے جس کی مثال