صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 531 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 531

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۳۱ ١٩ - كتاب التهجد بَاب ۱۳ : إِذَا نَامَ وَلَمْ يُصَلِّ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ اگر سو جائے اور نماز نہ پڑھی ہو تو شیطان اس کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے ١١٤٤ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۱۴۴ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوالاحوص أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُوْرٌ عَنْ (سلام بن سلیم) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: أَبِي وَائِلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ منصور نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقِيْلَ مَا زَالَ نَائِمًا حَتَّی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی شخص کا ذکر أَصْبَحَ مَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ بَالَ ہوا اور کہا گیا: وہ سوتا رہا یہاں تک کہ اسے صبح ہوگئی وہ نماز کے لئے نہیں اُٹھا۔آپ نے فرمایا: شیطان نے اس کے الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ اطرافه ۳۲۷۰ تشریح: کان میں پیشاب کر دیا تھا۔إِذَانَامَ وَلَمْ يُصَلَّ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ : روایت نمبر ۱۴۴ میں بھی مجاز و استعارہ ہے۔عرب لوگ خرابی و فساد کو پیشاب سے تعبیر کرتے ہیں۔چنانچہ شراب اگر بگڑ جائے تو کہتے ہیں: بَالَ سُهَيْلٌ فِي الْفَضِيحُ فَفَسَدَ۔(لسان العرب - تحت لفظ بول ) سهیل (ستارہ) نے کھجور کی شراب میں پیشاب کر دیا، جس سے وہ بگڑ گئی ہے۔چونکہ کان میں بیداری کا احساس قوی ہوتا ہے، اس لئے اگر کوئی شخص مرغ و غیرہ پرندوں کی آواز نہیں سنتا اور بستر خواب سے نہیں اُٹھتا تو گویا شیطان نے کان میں ایک قسم کی خرابی پیدا کر دی ہے۔جس کی وجہ سے وہ بوجھل ہو گئے ہیں اور شنوائی کام نہیں دیتی۔بَاب ١٤ : الدُّعَاءُ وَالصَّلَاةُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ پچھلی رات میں دعا ئیں کرنا اور نماز پڑھنا وَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الله عز وجل نے فرمایا ہے : وہ رات کو بہت کم سوتے اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ أَيْ مَا يَنَامُونَ ہیں۔یعنی وہ سوتے ہی نہیں۔{ اور صبحوں کے وقت وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ۔بھی وہ استغفار میں لگے رہتے ہیں۔} (الذاريات : ۱۸-۱۹)