صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 528
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۲۸ ١٩ - كتاب التهجد تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ وَأَبُو خَالِدِ الْأَحْمَرُ عَنْ محمد بن جعفر کی طرح سلیمان اور ابو خالد احمر نے بھی اطرافه: ۱۹۷۲، ۱۹۷۳ تشریح: حمید سے یہ روایت نقل کی ہے۔قِيامُ النَّبِيِّ الله بِاللَّيْلِ وَنَوْمُهُ: امام مسلم نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مزمل کے شروع میں نماز تہجد فرض قرار دی تھی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ایک سال تک عمل پیرا ر ہے۔مگر جب تخفیف اور آسانی کا حکم نازل ہوا تو پھر نماز تہجد بطور نفل کے پڑھی جاتی اور اس کی فرضیت کا حکم منسوخ سمجھا گیا۔(صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب جامع صلاة الليل ومن نام عنه او مرض یہ روایت امام بخاری کی شرط کے مطابق نہیں۔اس لئے انہوں نے اسے نظر انداز کر دیا ہے۔سورۃ مزمل ساری کی ساری مکی ہے اور یہ میچ نہیں کہ اس کی آخری آیت إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ مدینہ میں نازل ہوئی۔وہ روایتیں جن میں اس کے مدینہ میں نازل ہونے کا ذکر ہے۔بلحاظ سند ساقط الاعتبار ہیں۔اکثریت کا اسی بات پر اتفاق ہے کہ سورۃ مزمل ساری مکی ہے۔(فتح الباری جز ۳۶ صفحه ۲۹-۳۰) پس یہ کہنا کہ نماز تہجد پہلے فرض تھی، بعد میں اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی بے بنیاد ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو علیم و حکیم ہے، حکم دیتے وقت استثنائی حالات کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔یہ نہیں کہ حالات تبدیل ہونے پر ترمیم و تنسیخ کی ضرورت پیش آئی اور احکام منسوخ کئے گئے۔قرآن مجید کے تمام احکام میں استثنائی صورتیں اور ان کے متعلق ضروری ہدایات نزول وحی کے وقت ذکر کر دی گئی ہیں۔آیت عَلِمَ اَنُ أَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُ وُا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ (المزمل: ۲۱) { اور وہ جانتا ہے کہ تم ہر گز اس ( طریق کو نبھا نہیں سکو گے۔پس وہ تم پر عفو کے ساتھ جھک گیا ہے۔پس قرآن میں سے جتنا میسر ہو پڑھ لیا کرو۔} میں جو سہولت دی گئی ہے وہ تلاوت قرآن مجید سے متعلق ہے، نہ یہ کہ حکم قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلا 0 نِصْفَهُ أَوِ انْقُصُ مِنْهُ قَلِيلا ) ( المزمل:۴،۳) { رات کو قیام کیا کریگر تھوڑا۔اس کا نصف یا اس میں سے کچھ تھوڑا سا کم کردے۔اس آخری آیت سے منسوخ ہوا ہے۔بلکہ اس رکوع میں مذکورہ بالا حکم کی مزید وضاحت ہے کہ شب بیداری کا حکم بطور فرض کے نہیں۔امام بخاری نے اس ضمن میں جس روایت سے استدلال کیا ہے۔اس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ نبی علی سے سر حکم پر معنا ولفظاً پوری طرح عمل کیا کرتے تھے۔چنانچہ تہجد کے لئے رات کا کوئی حصہ معین نہ تھا اور نہ سونے کے لئے حکم قمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلا (المزمل :) کی تعمیل میں کبھی تقریبا ساری رات ہی عبادت میں مشغول رہتے۔کبھی آدھی رات کو اُٹھ کھڑے ہوتے اور کبھی اس کے بعد۔غرض رات کے اوقات میں سے کوئی خاص وقت مقرر نہ تھا۔امام موصوف نے الفاظ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ کے معنی قِيَامُ اللَّيْلِ (یعنی شب بیداری) بتا کر ہماری توجہ اس تاکید کی طرف پھیری ہے، جوان نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطَأَ وَ أَقْوَمُ قِيلاً (المزمل :) میں مضمر ہے۔اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ رات کو اٹھ کر عبادت کرنا اور دعائیں مانگنا نفس انسانی کی تربیت اور دعاؤں کی قبولیت کے لئے مناسب ہے۔اَشَدُّ وَطا کا تعلق نفس کی