صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 511
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۱۱ صلی اللہ ١٩ - كتاب التهجد گھڑی حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ بچے ہیں اور حضرت محمد ﷺ یہ بھی سچے ہیں اور قیامت کی حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ بھی برحق ہے ۔ اے اللہ میں نے تیرے حضور اپنی گردن وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ڈال دی ہے اور مجھ پر ایمان لایا ہوں اور تجھی پر میں نے وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف میں جھکا ہوں اور تیری ہی أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ ہے۔ میری مغفرت فرما، اس تقدیم و تاخیر میں جو میں نے کی خاطر میں نے یہ جھگڑا اُٹھایا ہے اور تیرے ہی حضور فیصلہ چاہا حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا ہے اور اس میں بھی جسے میں نے پوشیدہ رکھا اور جس کا میں أَخَرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ نے اظہار کیا۔ تو ہی مقدم کرنے والا اور تو ہی مؤخر کرنے الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ والا ہے۔ کوئی معبود نہیں مگر تو ہی یا (فرماتے : ) تیرے سوا اور أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ کوئی معبود نہیں۔ قَالَ سُفْيَانُ وَزَادَ عَبْدُ سفیان کہتے تھے اور ابوامیہ عبدالکریم ( ابن ابی المخارق ) نے الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَلَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا یہ پڑھایا۔ نہ بدی سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی بِاللَّهِ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي قوت مگر اللہ ہی کی مدد سے۔ سفیان کہتے تھے کہ سلیمان بن مُسْلِمٍ سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ ابی مسلم نے کہا: انہوں نے یہ بات طاؤس سے سنی۔ طاؤس عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، حضرت ابن عباس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه: ٦٣١٧، ٧٣٨٥ ٧٤٤٢، ٧٤٩٩۔ تشریح: نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ التَّهَجُدُ : هجود کے معنی ہیں نیند اور تہجد کے معنی ہیں نیند دور کرنا۔ (لسان العرب تحت لفظ هجد) پچھلی رات جو نماز پڑھی جاتی ہے اس کو تہجد اسی لئے کہتے ہیں کہ بیدار ہونے اور اس کو ادا کرنے کے لئے مشقت اُٹھانی پڑتی ہے۔ تہجد باب تفعل سے ہے جو تکلف پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی طبیعت پر بوجھ ڈال کر کام کرنا ۔ یہ نماز اگر چہ نفل ہے فرض نہیں ۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رات کو بھی بیدار ہو کر نماز پڑھ جو تیرے لئے بطور نفل ہوگی۔ اس لئے آپ نماز تہجد خاص اہتمام سے ادا فرمایا کرتے تھے۔ بیماری میں کبھی ترک بھی کی ہے۔ (روایت نمبر ۱۲۲۴) مبادا امت اسے نماز فریضہ سمجھ لے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۱۱۲۸) التَّهَجُدُ بِاللَّيْل : امام بخاری نے کتاب التجد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا دعا سے شروع کی ہے