صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 509
البخاري - جلد ۲ ۵۰۹ ۱ - كتاب تقصير الصلاة يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا (تجد ) بیٹھ کر پڑھتے۔آپ بیٹھ کر ہی (قرآن بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ نَحْو مِنْ ثَلاثِيْنَ أَوْ مجید) پڑھتے رہتے۔جب آپ کی قرآت سے تمہیں أَرْبَعِيْنَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ چالیس کے قریب آیتیں رہتیں تو آپ کھڑے يَرْكَعُ ثُمَّ سَجَدَ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ ہو جاتے اور کھڑے ہوکر پڑھتے۔پھر رکوع کرتے۔الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ پھر سجدہ کرتے۔دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی نَظَرَ فَإِنْ كُنْتُ يَقْضَى تَحَدَّثَ مَعِي کرتے۔جب نماز پڑھ چکتے تو دیکھتے۔اگر میں جاگتی ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے اگر میں سو رہی وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ۔ہوتی تو لیٹ جاتے۔اطرافه ۱۱۱۸، ۱۱٤۸، ١١٦۱، ١١٦٨، ٤٨٣٧۔فریح: وَجَدَ خِفَّةً تَمَّمَ مَا بَقِىَ شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جس خوبی کے ساتھ احکام شریعت پر عمل کیا ہے اس کی ایک مثال اس باب کی روایتوں میں بھی ملتی ہے۔بڑھاپے اور کمزوری میں بھی اقِیمُوا الصَّلاةَ کے حکم کی تعمیل انہی شروط کے مطابق کی ہے جو اسلام نے عبادت کے لئے مقرر کی ہیں۔قیام وقعود اور رکوع وجود میں سے ہر ایک اپنے اندر ایک خاص مقصد رکھتا ہے۔نماز میں قیام در حقیقت قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقرہ:۲۳۹) کی صحیح تصویر ہے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ مسلمان اطاعت الہی میں ادب سے کمر بستہ کھڑا ر ہے اور سجدہ یہ غرض رکھتا ہے کہ انسان الہی حکم کے سامنے جھکا ر ہے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی تعمیل اپنی پوری طاقت کے ساتھ کر کے ایک بے نظیر نمونہ ہماری راہنمائی کے لئے چھوڑا ہے۔شریعت نے جو سہولت دی ہے اس کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ معمولی معمولی عذروں پر انسان بیٹھ کر دو چار سجدے کر کے فریضہ عبادت سے سبکدوش ہو جائے۔مذکورہ بالا باب قائم کر کے امام بخاری یہی بات ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔0000000000