صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 495
البخاري - جلد ۲ ۴۹۵ بَابِ ۱۰: صَلَاةُ التَّطَوُّعِ عَلَى الْحِمَارِ گدھے پر نفل نماز پڑھنا ۱ - كتاب تقصير الصلاة ۱۱۰۰: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ :۱۱۰۰ احمد بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: حبان ( بن قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ (بلال) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ہم سے حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيْرِيْنَ قَالَ اسْتَقْبَلْنَا ہمام بن كي ) نے بیان کیا۔کہتے تھے: انس بن سیرین نے أَنسًا حِيْنَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ فَلَقِيْنَاهُ بِعَيْنِ ہمیں بتایا۔کہا: ہم حضرت انس بن مالک ) کے استقبال کو التَمْرِ فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارِ نکلے، جب وہ شام سے (لوٹ کر ) آئے تھے۔ہم ان سے وَوَجْهُهُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ يَعْنِي عَنْ عین التمر میں ملے۔میں نے ان کو دیکھا کہ وہ گدھے پر يَسَارِ الْقِبْلَةِ فَقُلْتُ رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ (سوار) نماز پڑھ رہے تھے۔ان کا منہ قبلہ سے بائیں طرف الْقِبْلَةِ فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ تھا۔میں نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ قبلہ کی طرف نہیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ لَمْ أَفْعَلْهُ بلکہ اور طرف نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے کہا: اگر میں رَوَاهُ ابْنُ طَهْمَانَ عَنْ حَجَّاجِ عَنْ أَنَسِ ے رسول اللی اللہ علیہ سلم کو ایسا کتے نہ دیکھا ہوتا تو سِيْرِيْنَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بْنِ میں ایسا نہ کرتا۔اس حدیث کو (ابراہیم ) بن طہمان نے بھی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔حجاج سے بروایت انس بن سیرین بیان کیا۔انس بن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور حضرت ان نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔تشریح: صَلَاةُ التَّطَوُّع عَلَى الْحِمَارِ : فقہاء نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے جس کا گوشت حرام ہے۔(عمدۃ القاری جزءے صفحہ ۱۴۱) امام بخاری نے جس روایت کو پیش کیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام کو اس قسم کے لغو مسائل کی طرف توجہ نہ تھی۔اونٹ ریگستان میں سواری اور بار برداری کا جانور ہے اور گدھا میدانی اور پہاڑی علاقہ میں اس غرض کے لئے بکثرت استعمال ہوتا ہے۔عرب میں امیر و غریب سب گدھے کو سواری کے لئے استعمال کرتے تھے۔گذشتہ ابواب سواری پر نماز پڑھنے کے مسائل سے متعلق تھے۔اسی تسلسل میں یہ باب بھی ہے۔