صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 494 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 494

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۹۴ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة ۱۰۹۸ : وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ :۱۰۹۸ اور لیٹ نے کہا: یونس نے ابن شہاب سے عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ سَالِمٌ كَانَ عَبْدُ روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا، کہا: سالم کہتے تھے: اللَّهِ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ حضرت عبد اللہ بن عمر ) اپنی سواری پر رات کو نماز مُسَافِرٌ مَا يُبَالِي حَيْثُ مَا كَانَ وَجْهُهُ قَالَ پڑھتے اور آپ مسافر ہوتے ، پرواہ نہ کرتے جدھر ابْنُ عُمَرَ وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُسَبِّحُ بھی اس کا منہ ہوتا۔حضرت ابن عمر کہتے تھے: اور عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهِ تَوَجَّهَ وَيُوْتِرُ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بھی اونٹنی پر نفل پڑھتے۔عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ۔آپ ادھر ہی منہ کئے ہوتے جدھر اونٹنی کا منہ ہوتا اور اسی پر وتر پڑھتے مگر آپ اس پر فرض نماز نہ پڑھتے۔اطرافه: ۹۹۹، ۱، ۱۰۹۵، ۱۰۹۶، ۱۱۰۵۔۱۰۹۹: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ :١٠٩٩ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ ہشام (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے تہی سے، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ کی نے محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان سے روایت کی۔حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ انہوں نے کہا کہ حضرت جابر بن عبداللہ (انصاری) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ سواری پر مشرق کی طرف ( بھی ) نماز پڑھا کرتے يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ تھے اور جب نماز فریضہ پڑھنا چاہتے تو آپ اترتے اور قبلہ کی طرف منہ کرتے۔اطرافه ٤٠٠، ١٠٩٤، ٤١٤٠۔تشریح : يَنزِلُ لِلْمَكتوبة : خطر کی حالت میں نماز فریضہ سوار پر پڑھنے کی اجازت ہے ( روایت نمبر ۹۴۳) لیکن سفر کے عام حالات میں اجازت نہیں کہ وہ سواری پر ادا کی جائے۔روایت نمبر ۱۰۹۹ سے بھی معنونہ مسئلہ کی تائید ہوتی ہے۔روایت نمبر ۱۰۹۸ میں حضرت ابن عمرؓ کے عمل کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ امر مشہور ہے کہ وہ سنت نبویہ کی اتباع کا خاص اہتمام رکھتے تھے۔