صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 487 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 487

صحيح البخاری جلد ۲ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ۔ ۴۸۷ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة کہ آپ نے فرمایا: کوئی عورت تین دن کا سفر نہ کرے سوائے اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار ہو۔ تَابَعَهُ أَحْمَدُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ عُبَيْدِ ( مسدود کی طرح) احمد (بن محمد مروزی) نے (عبداللہ ) بن اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ مبارک سے، انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه: ١٠٨٦۔ نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے، حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی ۔ ۱۰۸۸: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۰۸۸: آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب ابْنُ أَبِي ذَنْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سعید مقبری نے الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ لئے جواللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ ایسی حالت میں ایک رات دن کی مسافت کا سفر يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَيْسَ مَعَهَا حُرْمَةٌ ۔ کرے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو۔ تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ وَسُهَيْلٌ ( ابن ابی ذئب کی طرح ) یحی ابن ابی کثیر سہیل اور وَمَالِكٌ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مالک نے بھی مقبری سے، اور انہوں نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کی ہے۔ بہت تشريح : فِي كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاةَ : مسلہ ذکورہ بالا میں ہر اختلاف ہے۔ امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور فقہاء کی ایک بڑی جماعت نے چار برید یعنی ۴۸ میل کو ایسا سفر قرار دیا ہے جس میں نماز قصر کی ۔ جا سکتی ہے۔ یہ مذہب حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس کا ہے۔ امام ابو حنیفہ وغیرہ نے تین دن کی مسافت کو سفر قرار دیا ہے ۔ (بداية المجتهد كتاب الصلاة الجملة الثالثة الباب الرابع الفصل الأول فى القصر) یہ مذہب حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عثمان کا ہے۔ مگر شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام سے اس بارہ میں کوئی تخصیص مروی نہیں۔