صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 481
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۸۱ ۱۷ - كتاب سجود القرآن بَاب ۱۲ : مَنْ لَّمْ يَجِدْ مَوْضِعًا لِلسُّجُودِ مِنَ الرِّحَام جس نے ہجوم کی وجہ سے سجدہ کے لئے جگہ نہ پائی ۱۰۷۹ : حَدَّثَنَا صَدَقَةً قَالَ أَخْبَرَنَا :١٠٧٩ صدقہ ( بن فضل) نے ہم سے بیان کیا، يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعِ عَنِ ابْنِ کہا: حي (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ عبيد الله (عمری) سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السُّورَةَ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔الَّتِي فِيْهَا السَّجْدَةُ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہ سورۃ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ پڑھتے جس میں سجدہ ہوتا، آپ سجدہ کرتے اور ہم بھی سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو اپنی اطرافه: ١٠٧٥، ١٠٧٦۔تشریح: پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔مَنْ لَّمْ يَجِدُ مَوْضِعًا لِلسُّجُودِ ہجوم کی وجہ سے اگر کوئی سجدہ نہ کر سکے تو بعض نے اجازت دی ہے کہ لوگوں کے سر اٹھانے پر سجدہ کرے اور بعض نے کہا: کسی کی پیٹھ پر ہی کر لے۔ان کی یہ رائے سجدہ فریضہ سے متعلق ہے۔امام بخاری ان کے مذہب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ضمنا اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ سجدہ تلاوت میں بھی صحابہ کرام کو بوجہ تنگی مکان بعض اوقات دقت پیش آتی تھی۔اس سے ان کے شوق کا پتہ چلتا ہے۔مسائل سابقہ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ انسان آیات سجدہ سن کر لا پرواہی سے کام لے بلکہ صحابہ کرام کا سا شوق رکھنا چاہیے۔