صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 480 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 480

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۸۰ ۱۷ - كتاب سجود القرآن کیا گیا ہے۔اس ضمن میں حضرت عمران بن حصین، حضرت سلمان فارسی اور حضرت عثمان کے جو حوالے دیئے گئے ہیں۔ان کی تفصیل فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۲۰ وعمدۃ القاری جزء ے صفحہ ۱۰۸ میں ہے۔حضرت عمران تو آیات سجدہ سننے پر بھی سجدہ کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے۔حضرت سلمان اور حضرت عثمان کے نزدیک ارادہ و نیت کا پایا جانا ضروری ہے یعنی اگر تلاوت سننے کی نیت سے بیٹھے تو سجدہ کرے۔زہری کے نزدیک باوضو ہونا شرط ہے مگر جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے اس میں وسعت ہے۔زہری کے نزدیک یہ بھی واجب نہیں بلکہ اختیاری ہے اور اس لئے انہوں نے نوافل پر قیاس کر کے سفر میں سواری پر بھی سجدہ تلاوت کرنے کا فتویٰ دیا ہے۔روایت نمبر ۱۰۷۷ ان فقہاء کی تائید کرتی ہے جو سجدہ تلاوت واجب نہیں سمجھتے۔بَاب ۱۱ : مَنْ قَرَأَ السَّجْدَةَ فِي الصَّلَاةِ فَسَجَدَ بِهَا جس نے نماز میں سجدہ کی آیات پڑھیں اور پھر ان میں سجدہ کیا ۱۰۷۸: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۱۰۷۸ مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: معتمر نے مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ بَكْرٌ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي سے سنا۔انہوں نے کہا: بکر نے مجھے بتایا۔انہوں نے هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ ابو رافع سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فَقُلْتُ مَا هَذهِ قَالَ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو انہوں نے سورۃ اِذَا سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى السَّمَاءُ انْشَقَّتُ پڑھی اور سجدہ کیا۔میں نے کہا: یہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ فِيْهَا سجدہ کیسا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے اس حَتَّى أَلْقَاهُ۔سورۃ میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا اطرافه: ٧٦٦، ٧٦٨ تشريح : تھا۔پس میں اس میں ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں۔مَنْ قَرَءَ السَّجُدَةَ فِى الصَّلَاةِ فَسَجَدَ بِهَا : امام مالک کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ نماز میں آیات سجدہ پڑھنی مکر وہ سجھتے تھے۔بعض حنفیوں کا بھی یہی مذہب ہے۔ان کے رد میں یہ باب قائم کیا گیا ہے۔( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۲۲)