صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 477
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۷۷ ا - كتاب سجود القرآن ۱۰۷۵ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۰۷۵ مسدد۔ مسدد نے ہم سے بیان کے سے بیان کیا، کہا: بچی نے يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ہم سے بیان کیا۔ عبید اللہ سے روایت ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمر كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی عَلَيْنَا السُّورَةَ فِيهَا السَّجْدَةُ فَيَسْجُدُ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو وہ سورۃ پڑھ کر سناتے جس وَنَسْجُدُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَوْضِعَ میں سجدہ ہوتا ۔ آپ بھی سجدہ کرتے اور ہم بھی سجدہ جبهته ۔ اطرافه ۱۰۷۶، ۱۰۷۹۔ کرتے ۔ یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو اپنی - پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی ۔ تشريح : مَنْ سَجَدَ لِسُجُودِ الْقَارِي : امام ابوحنیفہ نے والے کے لئے بھی سجدہ کرناضروری سمجتے ہیں۔ خواہ مرد ہو یا عورت۔ امام مالک نے دو شرطیں عائد کی ہیں: ایک یہ کہ وہ سننے کی غرض سے بیٹھا ہو اور دوسرے یہ کہ قاری سجدہ کرے ورنہ نہیں۔ (بداية المجتهد ۔ كتاب الصلاة الثاني ۔ الباب التاسع في سجود القرآن۔ فصل على من يتوجه حكمها) اس باب سے ان کے مسلک کی تائید ہوتی ہے۔ بَاب ۹ : ازْدِحَامُ النَّاسِ إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ السَّجْدَةَ لوگوں کا ہجوم جب امام سجدہ کی سورۃ پڑھے ١٠٧٦ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ قَالَ :۱۰۷۶: بشر بن آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: علی حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا بن مسہر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عبید اللہ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ (عمری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی آیات پڑھتے اور ہم السَّجْدَةَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَيَسْجُدُ آپ کے پاس ہوتے ۔ آپ سجدہ کرتے اور ہم بھی وَنَسْجُدُ مَعَهُ فَتَزْدَحِمُ حَتَّى مَا يَجِدُ آپ کے ساتھ سجدہ کرتے اور اتنی بھیڑ ہوتی کہ ہم