صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 473 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 473

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۷۳ ا - كتاب سجود القرآن كَفَّا مِنْ حَصَى أَوْ تُرَابِ فَرَفَعَهُ إِلَى ایک آدمی نے کنکروں کی یا مٹی کی مٹھی لی اور اسے وَجْهِهِ وَقَالَ يَكْفِيْنِي هَذَا { قَالَ عَبْدُ اپنے منہ تک اٹھا کر لایا اور کہا: میرے لئے یہی کافی } فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا ۔ ہے۔ (عبداللہ کہتے تھے: میں نے اسے بعد میں الله کے اطرافه: ١٠٦٧، ٣٨٥٣، ٣٩٧٢، ٤٨٦۔ دیکھا کہ وہ بحالت کفر مارا گیا۔ تشریح : سَجدَةُ النجم: سورة الجم کی آیت فَاسْجُدُ لِلَّهِ وَاعْبُدُوا بیغام ہے اوریہ مقام بھی تاکیدی nnnn----- سجدوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ پہلا موقع تھا، جس پر سجدہ کیا گیا ۔ (روایت نمبر ۴۸۶۳) گوسورة اقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ میں بھی سجدہ کا حکم ہے جو پہلی سورۃ ہے۔ اس کے آخر میں فرماتا ہے: وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبُ بعض کا خیال ہے کہ یہ آیت سورۃ النجم کے بعد نازل ہوئی ہوگی یا یہ کہ سجدہ کرنے کا خیال آپ کو نہ آیا ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ اس آیت پر سورۃ ختم ہوتی ہے اور اس کے معاً بعد رکوع و سجود ہوتا ہے۔ اسی پر اکتفاء کیا گیا۔ بہر حال یہ ثابت شدہ امر ہے کہ پہلا سجدہ آپ نے سورۃ النجم کی تلاوت پر ہی کیا تھا ۔ جسے سن کر مشرکین بھی اس قدر متاثر تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کرنے پر انہوں نے بھی صحابہ کرام کے ساتھ ہی سجدہ کیا ، سوائے امیہ بن خلف کے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۱۳ ) وہ روایتیں بالکل بے بنیاد ہیں جن میں یہ آیا ہے : أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزْی کی آیت کے بعد الفاظ تلک الْغَرَائِيقُ الأولی سے لات اور عزبی وغیرہ بتوں کی تعریف کی گئی تھی اس واسطے مشرکین قریش نے سجدہ کیا تھا۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: صحیح بخاری کتاب التفسير،تفسير سورة النجم۔ قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ الله : عنوان باب میں حضرت ابن عباس کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ روایت نمبر اے ۱۰ میں تفصیلاً دیکھئے۔ بابه : سُجُودُ الْمُسْلِمِينَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ مسلمانوں کا مشرکوں کے ساتھ سجدہ کرنا وَالْمُشْرِكُ نَجَسٌ لَيْسَ لَهُ وُضُوءٌ وَكَانَ ابْنُ حالانکہ مشرک ناپاک ہوتا ہے اس کا وضو نہیں ہوتا اور حضرت وَاللَّهُ عَنْهُمَا يَسْجُدُ عَلَى غَيْرِ } وُضُوء۔ ابن عمر رضی اللہ عنہا بغیر وضو کے بھی سجدہ کر لیا کرتے تھے۔ عُمَرَ رضي الله : الفاظ قَالَ عَبْدُ اللهِ ، فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۷۱۴ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ ے لفظ ”غیر " فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۷۱۴ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔