صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 469
حيح البخاری جلد ۲ ۴۶۹ ١٦ - كتاب الكسوف عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ میں سورج گرہن ہوا۔آپ نے منادی کو بھیجا ( کہ لوگوں مُنَادِيًا بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی میں اعلان کرے ) نماز با جماعت ہوگی۔پھر آپ آگے أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ بڑھے اور دورکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔سَجَدَاتٍ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ( وليد بن مسلم نے کہا:) عبد الرحمن بن نمر نے مجھے نَمِرٍ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ مِثْلَهُ قَالَ بتایا کہ انہوں نے ابن شہاب سے ایسے ہی سنا۔(ابن الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ مَا صَنَعَ أَخُوكَ ذَلِكَ شہاب زہری کہتے تھے: میں نے (عروہ سے) کہا: تمہارے بھائی حضرت عبداللہ بن زبیر نے کیا کیا؟ انہوں نے جب مدینہ میں نماز پڑھائی تو صبح کی طرح صرف دور کعتیں ہی پڑھیں۔( عروہ نے) کہا: ہاں وہ أَجَلْ إِنَّهُ أَخَطَأَ السُّنَّةَ تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ سنت سے چوک گئے۔(عبدالرحمن بن نمر کی طرح) عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ الصُّبْحِ إِذْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ قَالَ حُسَيْنٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ الزُّهْرِيِّ فِي الْجَهْرِ۔عَنِ سفیان بن حسین اور سلیمان بن کثیر نے بھی بلند آواز قرآت کی بابت زہری سے روایت کی۔اطرافه: ١٠٤٦، ۱۰٤٧، ۱۰۵۰، ۱۰٥٦، ۱۰۵۸، ١٠٦٤، ١٠٦٥، ١٠٦٦، تشریح: ۶۲۳۱ ،۵۲۲۱ ،٤٦٢٤ ،۳۲۰۳ ،۱۲۱۲ اَلْجَهْرُ بِالْقِرَأَةِ فِي الْكُسُوفِ : اس مسئلے میں بھی اختلاف ہوا ہے۔امام مالک اور امام شافعی دونوں کا یہ مذہب ہے کہ قرآت خاموشی سے ہو اور امام احمد بن حنبل اور امام ابو یوسف و غیره قرآت بالجمر کے قائل ہیں۔اس اختلاف کی تفصیلی بحث کے لئے دیکھئے : بداية المجتهد۔کتاب الصلاة الثاني۔الباب السادس في صلاة الكسوف۔المسئلة الثانية في قرأة فيها۔امام بخاریؒ ، امام احمد بن حنبل کے مذہب کی تائید میں ہیں جسے انہوں نے نہایت مستند روایات سے ثابت کیا ہے۔یہ نماز بھی نماز جمعہ اور عیدین اور استسقاء کی طرح ہے۔اس میں خطبہ بھی پڑھا گیا ہے اور قرآت بالجبر بھی۔امام شافعی نے حضرت ابن عباس کے قول قَرَأَ نَحُوا مِّنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر بلند آواز سے پڑھی ہوتی تو اس اندازے کے کوئی معنے نہیں رہتے۔یہ استنباط نص صریح کے مقابل ساقط الاعتبار ہے۔قَالَ الاَوْزَاعِيُّ وَغَيْرُهُ : اس روایت کا مضمون روایت نمبر ۱۰۵ میں گذر چکا ہے۔امام اوزاعی کی روایت امام مسلم اور ابوداود دو غیرہ نے بھی نقل کی ہے۔(مسلم، کتاب الکسوف۔باب صلاة الكسوف) (ابوداؤد۔كتاب الصلاة۔باب من قال اربع رکعات) باقی حوالوں کی تفصیل فتح البار بجزء ثانی صفحہ ۷۰۹ میں دیکھئے۔0000000000