صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 467 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 467

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۷ ١٦ - كتاب الكسوف با جماعت نماز پڑھی۔ دیکھئے روایت نمبر ۱۰۶۲۱۰۴۴۔ آپ نے اس موقع پر خطبہ میں دونوں گرہنوں میں نماز پڑھنے کا ارشاد فرمایا ہے: وَلَكِنَّهُمَا ايَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَقُومُوا فَصَلُّوا ۔ (روایت نمبر (۱۰۴) روایت نمبر ۱۰۶۳ میں بھی یہی مضمون ہے۔ اس کے یہ الفاظ ہیں: إِذَا كَانَ ذَاكَ فَصَلُّوا وَادْعُوا ۔ گرہن کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دکھایا کہ وہ کس طرح پڑھی جاتی ہے۔ آپ نے یہ تخصیص نہیں کی کہ سورج گرہن کی نماز با جماعت پڑھی جائے اور چاند کی اکیلے۔ بَاب : صَبُّ الْمَرْأَةِ عَلَى رَأْسِهَا الْمَاءَ إِذَا أَطَالَ الْإِمَامُ الْقِيَامَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَوْلَى ) جب امام پہلی رکعت میں دیر تک کھڑا رہے عورت کا اپنے سر پر پانی ڈالنا ہی بَاب ١٨ : الرَّكْعَةُ الْأُولَى فِي الْكُسُوْفِ أَطْوَلُ گرہن کی نماز میں پہلی رکعت کو زیادہ لمبا کرنا ١٠٦٤: حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ :۱۰۶۴ محمود ( بن غیلان ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کہا: ابواحمد ( محمد بن عبداللہ ) نے ہم سے بیان کیا، عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ کہا: سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کیا سے، کچی نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفِ رضی اللہ عنہا سے روایت سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورج گرہن کے وقت چار رکوع دو الشَّمْسِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي سَجْدَتَيْنِ سجدوں کے ساتھ (یعنی دورکعت ) نماز پڑھائی۔ الْأَوَّلُ الْأَوَّلُ أَطْوَلُ۔ پہلی رکعت زیادہ لمبی تھی ۔ اطرافه: ١٠٤٤، ١٠٤٦، 1047، 1050 ، 1056، 1058 ، 1065، 1066، ٤٦٢٤، ٥٢٢١، ٦٦٣١ ،۳۲۰۳ ،۱۲۱۲ تشريح : الرَّكْعَةُ الْأُولَى فِي الْكُسُوفِ أَطْوَلُ: باب نمبر ۸ سے پچھلے عنوان باب کی ذیل میں کوئی اروایت نہیں لائی گئی جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت اسماء کی روایت نمبر ۱۰۵۳ باب نمبر ۱۸ -------- سے ماقبل باب کے مطابق تھی مگر کوئی دوسری سند نہ ملنے کی وجہ سے اسے بغیر روایت رہنے دیا گیا ہے نیز ان دونوں عناوین کا مضمون ایک ہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت بھی پڑھی تھی۔ اس کی لمبائی کی مقدار کی طرف توجہ دلانے کے لئے لیے یہ عنوان باب مستملی کی روایت کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۰۷ )