صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 462 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 462

صحیح البخاری جلد ۲ ۴۶۲ ١٦ - كتاب الكسوف تشريح : لَا تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ : مشرک اقوام میں اس قسم کے اوہام اب تک بھی پائے جاتے ہیں۔ عربوں میں بھی تھے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انفاس قدسیہ نے ان کی تو ہم پرستی کلیۂ مٹادی۔ اس روایت سے آپ کی پاکیزہ معنویات کی عظمت کا پتہ چلتا ہے جن لوگوں کو شوق ہوتا ہے کہ ان کے مرید حسن اعتقاد میں کسی طرح کی کمی نہ کریں۔ وہ نہ صرف یہ کہ اس قسم کی خوش اعتقادی دیکھ کر اور پھولتے ہیں اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اپنے مریدوں کے منہ سے اپنے متعلق عقیدت مندی کی جھوٹی باتیں سن کر اپنے چہروں پر متانت اور سنجیدگی کا رنگ چڑھاتے اور فن سکوت سے اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ ریا کاری خلاف تعلیم اسلام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سننا بھی کہ گرہن آپ کے بیٹے حضرت ابراہیم کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے، برداشت نہ کیا اور فوراً ان کی تو ہم پرستی کا ازالہ فرمایا۔ مذکورہ واقعہ کو پایہ یقین تک پہنچانے کے لئے امام بخاری نے باب ۱۳ کے ذیل میں سات روایتوں کا ذکر کیا ہے۔ جن میں سے پانچ روایتیں حوالہ عنوان باب میں مذکور ہیں۔ حضرت ابوبکرہ کی روایت نمبر ۱۰۴۰ میں حضرت ابن عمر کی روایت نمبر ۱۰۴۲ میں حضرت مغیرہ کی روایت نمبر ۱۰۴۳ میں اور حضرت ابن عباس کی روایت نمبر ۱۰۵۲ میں گذر چکی ہے اور حضرت ابوموسی کی نمبر ۱۰۵۹ میں دیکھئے۔ بَاب ١٤ : الذِّكْرُ فِي الْكُسُوْفِ سورج گرہن کے وقت ذکر الہی کرنا ۔ رَوَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ روایت نقل کی۔ ١٠٥٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۱۰۵۹ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ نے کہا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بڑید اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ بن عبد اللہ سے، برید نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ حضرت ابوموسی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ سورج گرہن ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مضطرب ہو کر السَّاعَةُ فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ اٹھے ۔ آپ ڈرے، کہیں وہ گھڑی نہ ہو۔ آپ مسجد قِيَامٍ وَرُكُوْعٍ وَسُجُوْدٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ يَفْعَلُهُ میں آئے اور اتنے لمبے قیام اور رکوع اور سجدے کے وَقَالَ هَذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللهُ لَا ساتھ نماز پڑھی کہ میں نے کبھی ایسا آپ کو کرتے تَكُوْنُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنْ دیکھا تھا اور فرمایا: یہ نشان جو اللہ عز وجل بھیجتا ہے، يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ