صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 460 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 460

لبخاری جلد ۲ ۶۰ سوم ١٢ - كتاب الكسوف الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ وَهُوَ دُوْنَ السُّجُودِ پھر سجدہ کیا اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا۔الْأَوَّلِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ پھر (نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُوْلَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ وَسلم نے جو اللہ نے کہلانا چاہا، کہا۔پھر آپ نے أَنْ يَتَعَوَّذُوْا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ان سے فرمایا کہ وہ عذاب قبر سے پناہ مانگا اطرافه: ٤٤ کریں۔،١٠٦٤، ١٠٦٥، ١٠٦٦ ،۱۰۵۸ ،۱۰۵۰ ،۱۰١٠٤٦، ٤٧ ،۱۰ ٤٦٢٤، ٥٢٢١ ٦٦٣١ ،۳۲۰۳ ،۱۲۱۲ تشریح: صَلاةُ الْكُسُوفِ فِى الْمَسْجِدِ : عیدین اور استقاء کے لئے باہر جا کر نماز پڑھنا آپ کی سنت سے ثابت ہے لیکن گرہن کی نماز کے لئے آپ کے باہر جانے کا ذکر نہیں ملتا بلکہ آپ نے مسجد میں ہی نماز پڑھائی۔جیسا کہ روایت نمبر ۱۰۵۵ میں اس کی تصریح ہے۔عمرہ بنت عبد الرحمن کی یہی روایت نمبر ۱۰۴۹ میں گذر چکی ہے۔ان کی روایت میں تصریح نہیں بلکہ اس سے استدلالاً معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مسجد میں یہ نماز پڑھی تھی۔باہر سے آنے اور حجروں میں سے گذرنے اور لوگوں کو نماز پڑھانے کا ذکر ہے اور یہ حجرے مسجد سے ملحق تھے۔امام مسلم کی عمرہ سے روایت میں یہ الفاظ ہیں۔فَخَرَجْتُ فِی نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَى الْحُجَرِ فِى الْمَسْجِدِ (مسلم۔كتاب الكسوف۔باب ذکر عذاب القبر في صلاة الخسوف یعنی میں کچھ عورتوں سمیت حجروں میں سے ہوتے ہوئے مسجد میں گئی۔بَاب ۱۳ : لَا تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ سته کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے سورج گرہن نہیں ہوا کرتا رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ وَالْمُغِيْرَةُ وَأَبُو مُوسَى حضرت ابوبکرہ، حضرت مغیرہ، حضرت ابوموسی، وَابْنُ عَبَّاسِ وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ۔حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث بیان کی۔١٠٥٧: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۰۵۷: مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بھکی ( قطان ) نے يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنِي قَيْس ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل ( بن ابی خالد ) سے روایت عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ کی، کہا: قیس نے مجھے بتایا۔حضرت ابوسعود ( عقبہ بن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ عمر و انصاری) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی