صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 460
صحیح البخاری جلد ۲ ۳۶۰ ١٦ - كتاب الكسوف الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ وَهُوَ دُوْنَ السُّجُودِ پھر سجدہ کیا اور یہ پہلے سجدہ سے کم تھا۔ الْأَوَّلِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ پھر (نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُوْلَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ وَسلم نے جو اللہ نے کہلانا چاہا، کہا ۔ پھر آپ نے أَنْ يَتَعَوَّذُوْا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ ان سے فرمایا کہ وہ عذاب قبر سے پناہ مانگا کریں۔ اطرافه: ١٠٤٤، ١٠٤٦ ، 1047، 1050 ، 1058 ، 1064، 1065، 1066، ٤٦٢٤، ٥٢٢١، ٦٦٣١ ،۳۲۰۳ ،۱۲۱۲ تشريح : صَلَاةُ الْكُسُوفِ فِي الْمَسْجِدِ : عیدین اور استقاء کے لئےباہر جا کرنماز پڑھنا آپ کی سنت سے ثابت ہے لیکن گرہن کی نماز کے لئے آپؐ کے باہر جانے کا ذکر نہیں ملتا بلکہ آپ نے مسجد میں ہی نماز پڑھائی۔ جیسا کہ روایت نمبر ۱۰۵۵ میں اس کی تصریح ہے۔ عمرہ بنت عبدالرحمن کی یہی روایت نمبر ۱۰۴۹ میں گذر چکی ہے۔ ان کی روایت میں تصریح نہیں بلکہ اس ۔ اس سے استدلالاً معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مسجد میں یہ نماز پڑھی تھی۔ باہر سے آنے اور حجروں میں سے گذرنے اور لوگوں کو نماز پڑھانے کا ذکر ہے اور یہ حجرے مسجد سے ملحق تھے۔ امام مسلم کی عمرہ سے روایت میں یہ الفاظ ہیں ۔ فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَى الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ (مسلم۔ كتاب الكسوف۔ باب ذكر عذاب القبر في صلاة الخسوف) یعنی میں کچھ عورتوں سمیت حجروں میں سے ہوتے ہوئے مسجد میں گئی۔ بَاب ۱۳ : لَا تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے سورج گرہن نہیں ہوا کرتا رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ وَالْمُغِيْرَةُ وَأَبُو مُوسَى حضرت ابوبکره، حضرت مغیرہ، حضرت ابوموسی، وَابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث بیان کی ۔ ١٠٥٧ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۰۵۷: مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحی ( قطان ) نے يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل ( بن ابی خالد ) سے روایت عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ کی، کہا: میں نے مجھے بتایا۔ حضرت ابو مسعود ( عقبہ بن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ عمرہ انصاری) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی