صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 454 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 454

خاری جلد ۲ ۴۵۴ ١٢ - كتاب الكسوف رَكَعَ رُكُوْعًا طَوِيْلاً وَهُوَ دُونَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ الصَرَفَ کے نشانوں میں سے دونشان ہیں۔کسی کی موت اور وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ صَلَّى اللهُ زندگی کی وجہ سے نہیں گہناتے۔سو جب تم گرہن دیکھو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ تو اللہ تعالی کو یاد کرو۔لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَحْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی جگہ کھڑے کھڑے وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا کوئی چیز پکڑی ہے پھر ہم نے دیکھا آپ پیچھے کو ہٹے اللَّهَ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ ہیں۔آپ نے فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا تھا اور شَيْئًا فِي مَقَامِكَ ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَعْكَعْت ایک خوشہ لینے کو ہاتھ بڑھایا اور اگر وہ لے لیتا تو جب قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَأَيْتُ تک دنیا قائم رہتی تم اس سے کھاتے رہتے اور مجھے الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ عُنْقُوْدًا وَلَوْ أَصَبْتُهُ آگ بھی دکھائی گئی۔میں نے کبھی کوئی نظارہ ایسا لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَأُريتُ بھیانک نہیں دیکھا جیسے آج۔میں نے آگ والوں النَّارَ فَلَمْ أَرَ مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفَطَعَ مِیں اکثر عورتیں دیکھیں۔لوگوں نے کہا: یارسول اللہ ! وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوْا بِمَ يَا کس لئے ؟ آپ نے فرمایا: ان کے اپنے کفر کی وجہ رَسُوْلَ اللهِ قَالَ بِكُفْرِهِنَّ قِيْلَ يَكْفُرْنَ ہے۔آپ سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کفر کرتی بِاللَّهِ قَالَ يَكْفُرْنَ الْعَشِيْرَ وَيَكْفُرْنَ ہیں؟ آپ نے فرمایا: خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں۔اگر تو عمر بھر اُن میں سے الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ کسی پر احسان کرے۔پھر اگر وہ تجھ سے ویسی کوئی الدَّهْرَ كُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ بات دیکھے تو وہ کہہ دے گی۔میں نے تجھ سے کبھی مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطَّ۔بھلائی نہیں دیکھی۔اطرافه: ۲۹ ٤۳۱، ٧٤٨، ۱۰۵۲، ۳۲۰۲، ۵۱۹۷ تشریح: صَلَاةُ الْكُسُوفِ جَمَاعَةً : امام ثوری کا مذہب ہے کہ اگر امام الصلوۃ موجود نہ ہوتو پھر الگ الگ نماز پڑھی جائے۔لیکن جمہور اس کے خلاف ہیں۔ان کی رائے ہے کہ کسی اور کو امام بنا کر با جماعت نماز پڑھی جائے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۹۷) امام بخاری اسی مذہب کی تائید میں ہیں۔عنوان باب میں حضرت ابن