صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 452
صحیح البخاری جلد ۲ ۴۵۲ ١٦ - كتاب الكسوف كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُوْدِيَ إِنَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن الصَّلاةَ جَامِعَةٌ فَرَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ہوا تو لوگوں کو یہ اطلاع دی گئی کہ نماز با جماعت ہوگی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ قَامَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میں دور کوع فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ثُمَّ جَلَسَ گئے ۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ قَالَ وَقَالَتْ دور کوع کئے ۔ پھر آپ بیٹھے اور سورج سے تاریکی دور عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَا سَجَدْتُ ہوگئی تھی ۔ (حضرت عبداللہ بن عمرو نے) کہا: حضرت سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهَا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : میں نے کسی نماز میں اتنا اطرافه ١٠٤٥ ۔ لمبا سجدہ نہیں کیا جتنا اس نماز میں ۔ تشريح : طُولُ السُّجُودِ فِي الْكُسُوفِ : اس باب سے مالکوں کا خیال ر کرنا مقصود ہے جولا ہے لمبا سجدہ کرنے کی نفی کرتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ قیام اور رکوع لمبے کئے گئے تھے اور ان کے لمبا کئے جانے سے متعلق بالتكرار ذکر ہے مگر سجدہ کے بارہ میں ذکر نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۹۵) یہ دلیل صحیح نہیں ۔ سجدہ کی بابت صریح روایتیں ہیں ۔ مثلاً ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ( روایت نمبر ۱۰۴۴) پھر آپ نے سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهَا ( روایت نمبر (۱۰۵) یعنی میں نے کسی نماز میں اتنا لمباسجدہ نہیں کیا، جتنا اس نماز میں ۔ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَ رُكُوعِ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ يَفْعَلُهُ ۔ (روایت نمبر ۱۰۵۹) ۱۰۵۰) یعنی آپ نے اتنے لمبے قیام اور رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھی کہ میں نے کبھی ایسا آپ کو کرتے دیکھا تھا۔ اس نص صریح کے مقابل میں مالکیوں کا استدلال نہ صرف روایہ کمزور ہے بلکہ درایہ بھی اس حالت خشوع کے منافی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دلوں میں اس مخصوص گھڑی کے وقت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (العلق: (۲۰) سجدہ کر اور قریب سے قریب تر ہوتا جا ۔ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ ۔ اس جملے سے یہ مراد نہیں کہ صرف ایک ہی سجدہ کیا بلکہ پوری رکعت مع دو سجدوں کے ۔ دیکھئے باب ۴ جہاں تفصیل سے دورکعتوں میں چار سجدے کرنے کا ذکر ہے: فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي اَرْبَعِ سَجَدَاتٍ یعنی آپ نے دورکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ (روایت نمبر ۱۰۴۶)