صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 451
خاری جلد ۲ ۴۵۱ ١٦ - كتاب الكسوف دُوْنَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا دیر تک کھڑے رہے اور یہ پہلے قیام سے کم تھا اور پھر ایک طَوِيْلاً وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔پھر کھڑے قَامَ قِيَامًا طَوِيْلًا وَهُوَ دُوْنَ ہوئے اور دیر تک کھڑے رہے اور یہ پہلے قیام سے کم تھا الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوْعًا طَوِيْلاً وَهُوَ اور پھر ایک لمبارکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔پھر دُوْنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سراٹھایا اور سجدہ کیا اور ( نماز سے فارغ ہو گئے۔پھر جو وَانْصَرَفَ فَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُوْلَ ثُمَّ کچھ اللہ نے کہلا نا چاہا کہا۔پھر آپ نے ان سے فرمایا: أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوْا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔عذاب قبر سے پناہ مانگا کریں۔اطرافه ١٠٤٤، ۱۰٤٦، ۱۰٤٧، ۱۰٥٦، ۱۰۵۸، ١٠٦٤، ١٠٦٥، ١٠٦٦، ٤٦٢٤، ٦٦٣١،٥٢٢١ ،۳۲۰۳ ،۱۲۱۲ تشریح : التَّعَودُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْكُسوف : قرآن مجید میں قبرکی حالت برزخ سے موسوم کی گئی ہے۔برزخ کے معنے ہیں: اکتساب نیکی کا زمانہ منقطع ہو چکا۔زمانہ برزخ میں انسان کی روح کچھ مدت کے لئے تعطل اور سکون میں رہتی ہے۔سورج یا چاند گرہن میں بھی فیضان نور عارضی طور پر معرض التوا میں ہو جاتا ہے۔اس توقف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن روح کے عارضی تعطل کی طرف منتقل ہوا ہے۔جو عالم برزخ میں اس پر طاری ہو کر نور زندگی کو پردہ غیب و اخفا میں ڈال دیتا ہے۔نہایت لطیف مناسبت کی وجہ سے آپ نے اس موقع پر عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا ارشاد فرمایا۔اتفاق سے اس دن آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم بھی فوت ہو گئے تھے اور آپ ان کو دفن کرنے کے لئے سوار ہو کر باہر تشریف لے گئے (فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۰۲ ۷ تحت روایت نمبر ۶ ۱۰۵) اور پھر وہاں سے لوٹ کر سورج گرہن کی نماز پڑھی۔جیسا کہ اس روایت میں مذکور ہے۔عذاب قبر اور عالم برزخ کی کیفیات کی تفصیلی بحث کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی سوال دوم کا جواب زیر عنوان ” تین عالم روحانی خزائن جلده اصفحه ۳ ۴۰ تا ۴۰۸۔١٠٥١: باب ۸: طُوْلُ السُّجُوْد فِي الْكُسُوْف گرہن کی نماز میں لمباسجدہ کرنا ۱051: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ :۱۰۵۱: ابونعیم (فضل) نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ شيبان ( نحوی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سکھی (بن عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ لَمَّا الى كثير) سے، جی نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے