صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 446
صحیح البخاری جلد ۲ مم ١٢ - كتاب الكسوف يُحَدِّثُ يَوْمَ حَسَفَتِ الشَّمْسُ بِمثْلِ رضی اللہ عنہما سورج گرہن کی حدیث اسی طرح بیان حَدِيثِ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَقُلْتُ کرتے تھے۔جیسے عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت لِعُرْوَةَ إِنَّ أَحَاكَ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ کرتے ہوئے بیان کیا۔( زہری کہتے تھے ) میں نے بِالْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ عروہ سے کہا: آپ کے بھائی نے جس دن مدینہ میں الصُّبْحِ قَالَ أَجَلْ لِأَنَّهُ أَحْطَأُ السُّنَّةَ۔سورج گرہن ہوا دورکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھیں جیسے صبح کی نماز ہوتی ہے۔انہوں نے جواب دیا: ہاں۔اس لیے کہ وہ سنت سے چوک گئے۔اطرافه ۱۰٤٧،١٠٤٤، ۱۰۰۰، ۱۰٥٦، ۱۰۵۸، ١٠٦٤، ١٠٦٥، ١٠٦٦، ٤٦٢٤، ٥٢٢١ ٦٦٣١ ،۳۲۰۳ ،۱۲۱۲ تشریح: ابوحنیفہ نماز کسوف میں خطبہ کے قائل نہیں مگر امام شافعی کے نزدیک خطبہ اس نماز میں بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح عیدین میں۔اول الذکر امامین کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خطاب محض اس غلط فہمی کے دور کرنے کے لئے تھا جو لوگوں کو ہوئی کہ سورج گرہن آپ کے بیٹے حضرت ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔خُطْبَةُ الْإِمَامِ فِي الْكُسُوفِ : مسئلہ معنونہ کے متعلق اختلاف ہوا ہے۔امام مالک اور امام بداية المجتهد كتاب الصلاة الثاني الباب السادس في صلاة الكسوف المسئلة الرابعة: هل من شرطها الخطبة ) امام بخاری کا مذہب اس بارے میں وہی معلوم ہوتا ہے جو امام شافعی کا ہے۔عنوان باب میں روایت نمبر ۱۰۶۱،۱۰۴۴ کا حوالہ بطور تائید و تشریح دیا ہے۔ان میں خطبہ کا صریح ذکر ہے۔ابن شہاب کی اس روایت یعنی نمبر ۱۰۴۶ میں حمد وثنا کرنے کا ذکر ہے لفظ خطب نہیں۔مگر مراد ایک ہی ہے۔إِنَّ أَخَاكَ أَخْطَأ السنة : روایت نمبر ۱۹۴۶ کے آخر میں حضرت عبد اللہ بن زبیر کے سنت سے چوک جانے کا حوالہ یہی غرض واضح کرنے کے لئے دیا گیا ہے کہ سنت نبویہ کی اتباع میں قیاس و احتمالات جائز نہیں۔حضرت عبداللہ بن زبیر جب شام کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ کر رہے تھے اور ابھی مدینہ میں ہی تھے تو سورج گرہن ہوا اور انہوں نے صرف دور کعتیں پڑھیں جو بقول راوی غلطی تھی۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۹۰ ) اس تعلق میں روایت نمبر ۰۶۵ ابھی دیکھئے۔باب : هَلْ يَقُولُ كَسَفَتِ الشمس أو خَسَفَتْ کیا یہ کہے کہ سورج کا کسوف ہوا یا خسوف وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: وَخَسَفَ الْقَمَرُ۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : چاند کو گرہن ہوا ( یعنی (القيامة: ٩) خَسَفَتْ کا لفظ استعمال کیا۔)