صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 431
صحيح البخاری جلد ۲ یا ١٥ - كتاب الاستسقاء يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ اور ابھی آپ اپنے منبر سے اترے نہ تھے کہ میں يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ قَالَ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی سے بارش کے قطرے ٹپک ذَلِكَ وَفِي الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي رہے ہیں۔کہتے تھے کہ ہم پر سارا دن بارش ہوتی رہی اور يَلِيْهِ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى فَقَامَ ذَلِكَ اس کے دوسرے دن بھی، پھر دوسرے دن کے بعد بھی اور الْأَعْرَابِيُّ أَوْ رَجُلٌ غَيْرُهُ فَقَالَ ان دنوں میں بھی جو بعد تھے، دوسرے جمعہ تک۔پھر وہی رَسُوْلَ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ بدی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا۔اس نے کہا: یا رسول اللہ ! عمارتیں گرگئیں، جانور ڈوب گئے۔آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا: اے اللہ ! ہمارے آس پاس بر سے اور ہم پر نہ برسے۔حضرت انس کہتے تھے: چنانچہ آپ آسمان کے جس طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ تَفَرَّجَتْ حَتَّى صَارَتِ الْمَدِينَةُ فِي کرتے ، ادھر سے بادل پھٹ جاتے یہاں تک کہ مدینہ مِثْلِ الْجَوْبَةِ حَتَّى سَالَ الْوَادِي وَادِي یوں ہو گیا جیسے حوض میں ہے اور مینہ اتنا رسا کہ قنات نالہ قَنَاةَ شَهْرًا قَالَ فَلَمْ يَجِيُّ أَحَدٌ مِنْ ایک ماہ تک بہتا رہا۔کہتے تھے: جو کوئی بھی کسی طرف نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ۔فَادْعُ اللَّهَ لَنَا فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَمَا جَعَلَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّمَاءِ إِلَّا سے آتا تو وہ کثرت باراں ہی کا ذکر کرتا۔اطرافه ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳، ۱۰۱٤، ۱۰۱۵، ۱۰۱٦، ۱۰۱۷، ۱۰۱۸، ۱۰۱۹، تشریح: ۱۰۲۱، ۱۰۲۹، ۳۵۸۲، ٦٠٩۳، ٦٣٤٢۔مَنْ تَمَطَّرَ فِي الْمَطَر حَتَّى يَتَحَادَرَ عَلَى لِحْيَتِه: امام بخاری یہ باب قائم کر کے روایت نمبر ۱۰۳۳ کے اس حصہ کی طرف خاص توجہ دلانا چاہتے ہیں جو اپنے اندر خارق عادت کیفیت رکھتا ہے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بارش کے لئے دعا کرنا اور بارش شروع ہو جانے تک منبر سے نہ اتر نا بتا تا ہے کہ آپ قصداً کھڑے رہے اور سمجھتے تھے کہ آپ نے قبولیت کی گھڑی پالی اور اس یقین سے دعا کرتے رہے کہ قبول ہو کر رہے گی۔اس تعلق میں کتاب الجمعہ تشریح باب ۳۷، روایت نمبر ۹۳۵ بھی دیکھئے۔دعا کی معنوی کیفیات میں سے ایک خاص کیفیت یہ بھی ہے کہ بسا اوقات دعا کرنے والے کو دعا کرنے کے اثناء میں ہی وجدانی طور پر قومی احساس ہو جاتا ہے کہ یہ دعا قبول ہوگئی۔اس کیفیت میں فرحت و انبساط اور یقین کی آمیزش ہوتی ہے۔دعا خود بخو ددل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ دل پر بڑا بھاری بوجھ تھا جو یک دم اٹھ گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت ایک بے پایاں سمندر ہے