صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 429
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۲۹ ١٥ - كتاب الاستسقاء عبدالعزیز بن عبد اللہ اویسی کی روایت ہی کا حوالہ منقول ہے اور اگلے باب کی روایت نمبر ۱۰۳۱ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان روایتوں میں کوئی تضاد نہیں بلکہ حضرت انس کی مراد یہ ہے کہ بوقت دعائے استقاء ہاتھ زیادہ اونچا کر کے دعا کرتے جو تضرع کی علامت تھی۔ دعائے استسقاء کے ساتھ رفع الیدین کی مذکورہ بالا خصوصیت انہی معنوں میں ہے۔ باب ۲۳ : مَا يُقَالُ إِذَا أَمَطَرَتْ مینہ برستے وقت کیا کہا جائے وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَصَيِّبِ الْمَطَرُ وَقَالَ حضرت ابن عباس نے کہا: كَصَيِّبٍ میں صیب کے غَيْرُهُ صَابَ وَأَصَابَ يَصُوبُ ۔ معنے ہیں: بارش، اور دوسرے لوگوں نے کہا: صيب صَابَ يَصُوبُ سے ہے اور اس سے اَصَابَ ہے۔ ۱۰۳۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ ۱۰۳۲ : محمد جو کہ ابن مقاتل ابوالحسن المروزی مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ ہیں، نے ہم سے بیان کیا۔ کہا: عبداللہ نے ہمیں أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بتایا۔ انہوں نے کہا: عبید اللہ (عمری) نے ہمیں عَنْ نَافِعٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ خبردی عبید اللہ نے نافع سے اور نافع نے قاسم بن عَائِشَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مینہ برستا دیکھتے تو یہ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا تَابَعَهُ الْقَاسِمُ دعا کرتے یعنی اے اللہ مفید بارش ہو۔ محمد بن بْنُ يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَوَاهُ مقاتل کی طرح قاسم بن بکی نے بھی عبید اللہ ( عمری ) الْأَوْزَاعِيُّ وَعُقَيْلٌ عَنْ نَافِعٍ۔ سے یہی روایت کی ہے اور اوزاعی اور عقیل نے بھی نافع سے نقل کی۔ تشريح : مَا يُقَالُ إِذَا مَطَرَتْ: عنوان باب میں قرآن مجیدکی آج ن مجید کی آیت كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَ بَرق ( البقرہ : ۲۰) کی تفسیر اور لغوی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے اس طر وئے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ بارش کبھی ہلاکت کا موجب بھی ہوتی ہے۔ اس لئے صيِّبًا نَافِعًا کی دعا مانگنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق آتا ہے کہ بارش کے وقت آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا اور آپ ادھر اُدھر ٹہلنا شروع کر دیتے اور فرماتے وَمَا اَدْرِی ر لفظ "اللهم فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۶۶۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔