صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 417
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۱۷ ۱۵ - كتاب الاستسقاء بَاب ۱۲ : إِذَا اسْتَشْفَعُوْا إِلَى الْإِمَامِ لِيَسْتَسْقِيَ لَهُمْ لَمْ يَرُدَّهُمْ جب لوگ امام سے سفارش کریں کہ وہ ان کے لئے بارش کی دعا کرے تو وہ رد نہ کرے ۱۰۱۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۱۰۱۹ عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ شَرِيْكِ بْن عَبْدِ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شریک بن عبد اللہ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّهُ بن ابی نمر سے، شریک نے حضرت انس بن مالک قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ ایک شخص رسول اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ يا رسول الله ! مویشی مرگئے اور راستے بند ہو گئے۔فَادْعُ اللَّهَ فَدَعَا اللَّهَ فَمُطِرُنَا مِنَ الْجُمُعَةِ آپ اللہ سے دعا کریں۔اس پر آپ نے اللہ تعالیٰ إِلَى الْجُمُعَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ سے دعا کی اور ہم پر ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ بارش ہوتی رہی۔پھر ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ کے پاس آیا۔اس نے کہا: یا رسول اللہ! گھر گر گئے، وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِيْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ راستے بند ہو گئے اور مویشی مرگئے۔رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ عَلَى صلى الله علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! پہاڑوں اور ظُهُورِ الْجِبَالِ وَالْاكَامِ وَبُطُونِ ٹیلوں کی پشتوں پر اور وادیوں کے نشیبوں اور درختوں الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ فَالْجَابَت کے اُگنے کی جگہوں پر برسا۔چنانچہ مدینہ سے بادل عَنِ الْمَدِينَةِ الْحِيَابَ الثَّوْبِ۔کپڑے کی طرح پھٹ گئے۔تشریح: اطرافه ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳، ۱۰۱٤، ۱۰۱۵، ۱۰۱۶، ۱۰۱۷، ۱۰۱۸، ٦٣٤٢،٦٠٩۳ ،۳۵۸۲ ،۱۰۳۳ ،۱۰۲۹ ،۱۰۲۱ إِذَا اسْتَشْفَعُوا إِلَى الْإِمَامِ لِيَسْتَسْقِيَ لَهُمْ لَمْ يَرُدَّهُمْ: باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو قحط باراں میں کیا کرنا چاہیے اور اس باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ امام کا کیا فرض ہے جب لوگ اس کے توسط سے دعا کی تمنا کریں۔