صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 411
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۱۱ ۱۵ - كتاب الاستسقاء بَاب : الْإِسْتِسْقَاءُ فِي خَطْبَةِ الْجُمُعَةِ غَيْرَ مُستقبل القبلة خطبہ جمعہ میں بارش کی دعامانگنا بغیر اس کے کہ قبلہ رخ ہو ١٠١٤: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۱۰۱۴ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شریک شَرِيكَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ رَجُلًا سے شریک نے حضرت انس بن مالک سے روایت دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ جُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ کی کہ ایک شخص جمعہ کے دن اس دروازے سے مسجد كَانَ نَحْوَ بَابِ دَارِ الْقَضَاءِ وَرَسُولُ میں داخل ہوا جو دارالقضاء کی طرف تھا۔اس وقت اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ فرمار ہے فَاسْتَقْبَلَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے۔وہ شخص کھڑے کھڑے ہی رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ قَائِمًا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! مال هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَالْقَطَعْتِ السُّبُلُ مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے۔آپ اللہ فَادْعُ اللَّهَ يُغِيْتُنَا فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی سے دعا کریں کہ ہم پر مینہ برسائے۔رسول اللہ صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: اے اللہ ! ہم پر أَعْتُنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَعْتُنَا قَالَ أَنَسٌ بارش برسا۔اے اللہ! ہم پر بارش برسا۔اے اللہ ! ہم وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ پر بارش برسا۔حضرت انس کہتے تھے اللہ کی قسم ہم آسمان میں نہ ابر دیکھتے تھے نہ ابر کا ٹکڑا اور سلع پہاڑ ! سَحَابِ وَلَا قَرَعَةً وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعِ اور ہمارے درمیان نہ کوئی گھر تھا ، نہ مکان۔کہتے تھے اتنے میں پہاڑ کے پیچھے سے ایک بدلی ڈھال مِنْ بَيْتِ وَلَا دَارٍ قَالَ فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُرْسُ فَلَمَّا کے برابر نمودار ہوئی۔جب وہ آسمان کے درمیان تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ التَشَرَتْ ثُمَّ آئی تو پھیل گئی اور برسنے لگی۔بخدا ہم نے سورج أَمْطَرَتْ فَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سِتَّا ہفتہ بھر نہیں دیکھا۔پھر جمعہ کے دن اسی دروازہ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ "مینا" کی بجائے "سبتا" ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۱۵۴ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔