صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 407
صحيح البخاری جلد ۲ ۱۵ - كتاب الاستسقاء ١٠١٢: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۱۰۱۲ علی بن عبد اللہ (مدنی) نے ہم سے بیان کیا، عبداللہ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي کہا: سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن بَكْرِ إِنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ ابی بکر نے کہا کہ انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا۔وہ أَبَاهُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بن زَيْدِ أَنَّ النَّبِيَّ اپنے باپ کو اپنے چچا حضرت عبداللہ بن زیڈ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى روایت کرتے ہوئے بتارہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ عیدگاہ کی طرف گئے اور بارش کے لئے دعا کی اور وَقَلَبَ رِدَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَالَ آپ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنی چادر الٹائی اور أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَقُولُ هُوَ دورکعتیں پڑھیں۔ابوعبداللہ نے کہا: (سفیان ) بن صَاحِبُ الْأَذَانِ وَلَكِنَّهُ وَهِمَ لِأَنَّ هَذَا عِینہ کہتے تھے: (حضرت عبداللہ بن زید ) وہی ہیں عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمِ الْمَازِنِيُّ جِنہوں نے ( خواب میں ) اذان دیکھی تھی لیکن یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ یہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی مازِنُ الأَنصار ہیں۔یعنی قبیلہ مازن انصار۔اطرافه ،۱۰۰۵، ۱۰۱۱، ۱۰۲۳، ۱۰۲٤، ۱۰۲۵، ۱۰۲۶، ۱۰۲۷، ۱۰۲۸، ٦٣٤٣۔تشریح تَحْوِيلُ الرِّدَاءِ فِی الْاِسْتِسْقَاءِ : عنوان باب کو مصدر یہ رکھ کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔یہ امر در اصل ایسا نہیں کہ جس کو نماز استسقاء کا جزء قرار دیا جائے گو جمہور کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں چادر الٹانا مستحب ہے خواہ کسی وجہ سے آپ نے الٹائی ہو بلکہ امام شافعی نے یہاں تک کہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ دائیں حصہ کو بائیں کندھے پر اور بائیں حصہ کو دائیں کندھے پر کر دیا جائے بلکہ بعض روایات میں جو آتا ہے کہ آپ نے پہلے چادر کے نچلے کنارے کو پکڑ کر دائیں بائیں کرنا چاہا جب نہ کر سکے تو پھر اوپر کے کناروں سے ہی پکڑ کر اس کو الٹا دیا۔اس لئے ہمیں اس فعل کی اتباع بھی کرنی چاہیے۔جس کا آپ نے ارادہ فرمایا تھا مگر کسی وجہ سے نہ کر سکے۔امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایسی اتباع مستحب نہیں (فتح الباری جزء ثانی صفحه ۶۴۳۰۶۴۲) اور نہ آپ کا یہ فعل سنت کہلا سکتا ہے۔چنانچہ صحابہ کرام نے اپنی چادریں نہیں الٹا ئیں۔کسی خاص وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایسا کیا اور صحابہ کرام کو نہ کرنے پر ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عمل نماز استسقاء کا جز نہیں۔یہ مذہب معقول ہے۔کئی ہوں گے جن کے پاس چادر نہیں ہوتی۔خصوصاً آج کل جبکہ پوشاک کی حالت بالکل بدل گئی ہے۔امام موصوف نے عنوان باب باندھتے وقت احتیاط سے کام لیا ہے کیونکہ کسی خصوصیت پر عام مسائل کی بنیاد نہیں