صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 407 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 407

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۰۷ ۱۵ - كتاب الاستسقاء ۱۰۱۲ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۰۱۲: علی بن عبداللہ (مدنی) نے ہم سے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي کہا : سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن بَكْرٍ إِنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ ابی بکر نے کہا کہ انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا۔ وہ أَبَاهُ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ اپنے باپ کو اپنے چچا حضرت عبداللہ بن زید سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى روایت کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ عیدگاہ کی طرف گئے اور بارش کے لئے دعا کی اور وَقَلَبَ رِدَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَالَ آپ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنی چادر الٹائی اور أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كَانَ ابْنُ عُيَيْنَةَ يَقُولُ هُوَ دور کعتیں پڑھیں ۔ ابو عبد اللہ نے کہا: (سفیان ) بن صَاحِبُ الْأَذَانِ وَلَكِنَّهُ وَهِمَ لِأَنَّ هَذَا عینہ کہتے تھے: (حضرت عبداللہ بن زید ) وہی ہیں عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمِ الْمَازِنِی جنہوں نے (خواب میں اذان دیکھی تھی لیکن یان کی غلطی ہے کیونکہ یہ عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی مَازِنُ الْأَنْصَارِ۔ ہیں۔ یعنی قبیلہ مازن انصار۔ إطرافه: ۱۰۰۵، ۱۰۱۱، ۱۰۲۳ ، ۱۰۲۴ ، ۱۰۲۵، ۱۰۲۶، ۱۰۲۷، ١٠٢٨، ٦٣٤٣۔ کو تشريح : تَحْوِيلُ الرِّدَاءِ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ : عنوان باب و مصدر یہ کہ کراپنی رائے کا اظہارنہیں کیا۔ یہ امر در اصل ایسا نہیں کہ جس کو نماز استسقاء کا جزء قرار دیا جا ۔ کو نماز استسقاء کا جزء قرار دیا جائے گو جمہور کے نزدیک اور کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ی وسلم کی اتباع میں چادر الٹانا مستحب ہے خواہ کسی وجہ سے آپ نے الٹائی ہو بلکہ امام شافعی نے یہاں تک کہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ دائیں حصہ کو بائیں کندھے پر اور بائیں حصہ کو دائیں کندھے پر کر دیا جائے بلکہ بعض روایات میں جو آتا ہے کہ آپ نے پہلے چادر کے نچلے کنارے کو پکڑ کر دائیں بائیں کرنا چاہا جب نہ کر سکے تو پھر اوپر کے کناروں سے ہی پکڑ کر اس کو الٹا دیا۔ اس لئے ہمیں اس فعل کی اتباع بھی کرنی چاہیے۔ جس کا آپ نے ارادہ فرمایا تھا مگر کسی وجہ سے نہ کر سکے ۔ امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایسی اتباع مستحب نہیں ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۲۴۲ ۲۴۳) اور نہ آپ کا یہ فعل سنت کہلا سکتا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام نے اپنی چادریں نہیں الٹائیں۔ کسی خاص وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایسا کیا اور صحابہ کرام کو نہ کرنے پر ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا۔؟ نہیں دیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فعل نماز استسقاء کا جزو نہیں۔ یہ مذہب معقول ہے۔ کئی ہوں گے جن کے پاس چادر نہیں ہوتی ۔ خصوصاً آج کل جبکہ پوشاک کی حالت بالکل بدل گئی ہے۔ امام موصوف نے عنوان باب باندھتے وقت احتیاط سے کام لیا ہے کیونکہ کسی خصوصیت پر عام مسائل کی بنیاد نہیں