صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 406
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۶ ۱۵ - كتاب الاستسقاء بنائے گئے ۔ ایسا در حقیقت اس یقین اور عشق کی وجہ سے کیا گیا تھا جو صحابہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا۔ یہ امر کہ حضرت عمرؓ نے بھی حضرت عباس کو نماز استسقاء میں امام بنایا، دوسری روایتوں سے واضح ہو جاتا ہے جن میں سے حضرت ابن عباس کی وہ روایت بھی ہے جو عبدالرزاق نے اپنی مسند میں نقل کی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: أَنَّ عُمَرَ اسْتَسْقَى بِالْمُصَلَّى فَقَالَ لِلْعَبَّاسِ قُمْ فَاسْتَسْقِ فَقَامَ الْعَبَّاسُ ) مصنف عبد الرزاق۔ كتاب الصلاة۔ باب الاستسقاء، روایت نمبر ۴۹۱۳۔ جزء ۳ صفحه ۹۲، ۹۳) یعنی حضرت عمرؓ نے نماز گاہ میں حضرت عباس سے کہا: اٹھیں اور نماز استسقاء پڑھائیں تو حضرت عباس گھڑے ہوئے۔ باب ۳ کا مقصد یہ ہے کہ قحط باراں میں امام کے ذریعے دعا قابل اعتراض بات نہیں بلکہ سنت نبوی ہے۔ لوگ آپ سے درخواست کرتے اور آپ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے اور لوگ بھی ساتھ دعا کرتے ۔ اس قسم کا توسل اسلام میں جائز ہے اور یہ دعا اجتماعی ہے۔ روایت نمبر ۱۰۰۸ میں جس شعر کا حوالہ دیا ہے وہ ابو طالب کے اشعار میں سے ہے جو انہوں نے اس وقت کہے تھے جب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف ایکا کیا اور چاہا تھا کہ آپ کے چچا ابو طالب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کر دیں۔ شمال کے معنی ہیں: رکن، پناہ، فریادرس، مددگار، کفیل ۔ اس سے پہلے یہ شعر ہے: اس وَمَا تَرَكَ قَوْمٌ لَا أَبَا لَكَ سَيْدًا يَحُوطُ الدِّمَارَبَيْنَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ شعر کا ترجمہ یہ ہے: اے بے پدر! کسی قوم نے ایسے سردا ایسے سردار کو نہیں چھوڑا جو قبیلہ بنی بکر کے حقوق کی حفاظت کرتا ہو۔ سیرت ابن اسحاق میں یہ سارا قصیدہ منقول ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۳۹ ،۶۴۰) باب ٤ : تَحْوِيلُ الرِّدَاءِ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ استسقاء میں چادر اُلٹنا ١٠١١: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ ۱۰۱۱: الحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: وہب ( بن حَدَّثَنَا وَهْبٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ جریر نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: شعبہ نے مُّحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن ابوبکر سے محمد بن ابوبکر عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله نے عباد بن تمیم سے، عباد نے حضرت عبداللہ بن زید عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَقَلَبَ رِدَاءَهُ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لئے دعا مانگی اور اپنی چادر الٹائی۔ اطرافه: ۱۰۰۵، ۱۰۱۲، ۱۰۲۳، ۱۰۲۷، ۱۰۲۵، ۱۰۲۶، ۱۰۲۷، ١٠٢٨، ٦٣٤٣