صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 400
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۰ بالله العالم ۱۵ - كتاب الاستسقاء ١٥ - كِتَابُ الْإِسْتِسْقَاءِ 0000000000 بَاب ۱ : الْاِسْتِسْقَاءُ وَخُرُوجُ النَّبِيِّ ﷺ فِي الْاِسْتِسْقَاءِ مینہ برسنے کی دعا مانگنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استسقاء کے لئے باہر جانا ١٠٠٥: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ :۱۰۰۵ ابونعیم ( فضل بن دکین ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ کہا: سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي چا ( حضرت عبداللہ بن زید ) سے روایت کی کہ انہوں وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ۔ سے، عبداللہ نے عباد بن ان تمیم سے، عباد نے اپنے نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے لئے دعا مانگنے نکلے اور آپ نے دعا ما۔ نے ( دعا مانگتے ہوئے ) اپنی چادر الٹائی۔ إطرافه: ۱۰۱۱، ۱۰۱۲، ۱۰۲۳، ۱۰۲۴، ۱۰۲۵ ، ۱۰۲۶ ، ١۰۲۷، ١٠٢٨، 6343۔ تشریح : الاستسقاء: استقاء کے لغوی منی ہی پانی مانگا اور اصطلاح معنی میں مینہ برسنے کے لئے سنت نبوی کے مطابق دعا کرنا۔ جس طرح عیدین کی نماز کے لئے لوگ بستی سے باہر جا کر عید گاہ میں نماز پڑھتے ہیں۔ اسی طرح جب بارش نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں قحط اور مصیبت ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی سنت ہے کہ اس وقت باہر جا کر دو رکعت نماز پڑھ کر بارش کے لئے عاجزی سے دعائیں کی جائیں۔ بَاب ۲ : دُعَاءُ النَّبِيِّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوْسُفَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا کرنا کہ ان پر ایسے سال گردے جیسے یوسف کے سال ۱٠٠٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مُغِيْرَةُ ۱۰۰۶: قتیہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ مغيره بن عبدالرحمن نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى ابو زناد سے، ابوز ناد نے اعرج سے، اعرج نے