صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 395
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۹۵ ١٤ - كتاب الوتر تشريح : الوِتْرُ عَلَى الآية : انتا اور کونماز فریضہ قرار دینے ریضہ قرار دیتے ہیں۔ اس لئے سواری پر اسے پڑھنا جائز نہیں سمجھتے۔ (بداية المجتهد كتاب الصلاة الثاني۔ الباب الأول القول في على الراحلة ) اس باب سے ان کا یہ خیال رد کرنا مقصود ہے۔ بَاب ٦ : الْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سفر میں وتر پڑھنا ، في الوتر ۔ صلاة الوتر - ۱۰۰۰: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۰۰۰ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ جویریہ بن اسماء نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، أَسْمَاءَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ۔ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ پر ہی رات کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ آپ کا منہ اسی يُؤْمِنُ إِيْمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ طرف ہوتا جدھر وہ آپ کو لے جا رہی ہوتی ۔ آپ وَيُؤْتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ۔ اشارہ سے ہی (سجدہ و رکوع کرتے، سوائے فرض نمازوں کے اور اپنی سواری پر ہی وتر پڑھتے ۔ اطرافه: ۹۹۹ 1095، 1096، 1098، 1105۔ تشريح : الوِتْرُ فِي السَّفَرِ: سر میں نوافل نہیں پڑھے جاتے۔ پڑھے جاتے ۔ اس لئے فقہاء کے درمیان یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ اگر و تر نفل ہیں تو پھر یہ سفر میں ترک کر دینے چاہیں۔ مگر ان کا سفر میں بھی پڑھنا ضروری ہے۔ احناف نے اس سے استدلال کیا ہے کہ وہ بھی نماز فریضہ ہے یہ صیح نہیں۔ صبح کی نماز سے پہلے دو نفل بھی آپ ہمیشہ پڑھا کرتے تھے اور وہ فرض نہیں۔ روایت نمبر ۱۰۰۰ کے الفاظ إِلَّا الْفَرَائِضَ سے ظاہر ہے کہ وتر فرائض میں شامل نہیں ۔ سفر میں وتر پڑھے جانے سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی سنتوں کی طرح و ترسنت مؤکدہ ہیں۔ تمام نمازوں کو وتر میں تبدیل کرنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان نقطۂ توحید کو کسی حالت میں بھی نظر سے اوجھل نہ ہونے دے۔ اس کی عبادت محض اللہ وحدہ لاشریک کے لئے ہونی چاہیے۔ دوئی اس کی عبادت کے کسی پہلو میں بھی نہ پائی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ دن کی نمازوں کو مغرب کے وقت طاق کے ساتھ ختم کیا ہے اور رات کی نمازیں بھی وتر پڑھ کر طاق کر دی گئی ہیں اور اسی طرح یہ اہم مقصد سفر میں بھی نظر انداز نہیں ہونے دیا۔