صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 390
صحيح البخاری جلد ۲ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ۔۳۹۰ ١٤ - كتاب الوتر اپنی داہنی کروٹ لیٹ جاتے ، یہاں تک کہ مؤذن نماز کے لئے بلانے کو آپ کے پاس آتا۔اطرافه ٦٢٦، ١١٢٣، ۱۱٦٠، ۱۱۷۰، ۶۳۱۰ تشریح: مَا جَاءَ فِى الوتر : نماز وتر کے واجب ہونے یا نہ ہونے کی نسبت بھی اختلاف ہوا ہے۔احناف نے اسے پانچ نمازوں کی طرح واجب قرار دیا ہے اور اس کی تائید میں حضرت عمرو بن شعیب کی یہ روایت پیش کی ہے: إِنَّ اللَّهَ قَدْ زَادَ كُمُ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ فَحَافِظُوا عَلَيْهَا۔(بداية المجتهد، كتاب الصلاة۔الجملة الاولى۔المسئلة الثانية) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک اور نماز بڑھا دی ہے اور وہ وتر ہے۔اس کی حفاظت کرو۔لیکن حضرت خارجہ بن حذافہ کی روایت خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ الا الله فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ أَمَرَكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتُرُ جَعَلَهُ اللهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يُطْلَعَ الْفَجْرُ۔(التاريخ الكبير للبخاری، باب خارجة، روایت نمبر ۶۹۵ جز ۳۰ صفر ۲۰۳) یہ حدیث تشریح کرتی ہے کہ اس سے مراد وہ نماز ہے جو ساری نماز کو طاق بنادیتی ہے۔خواہ عشاء کے بعد یا صبح سے پہلے پڑھی جائے۔اس روایت کا ترجمہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ عزوجل نے تمہیں ایک ایسی نماز کا حکم دیا ہے جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے اور وہ وتر ہے اور نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان اسے تمہارے لئے مقرر کیا ہے۔امام بخاری نے بھی روایت نمبر ۹۹۰ سے اسی وتر نماز کی طرف توجہ دلائی ہے۔وتر کے معنے طاق عدد کے ہیں اور یہ نماز فرض نہیں بلکہ نوافل میں سے ہے۔جیسا کہ امام مالک وامام شافعی اور اکثر علماء کا مذہب ہے۔صرف پانچ نمازیں ہی فرض ہیں۔(بداية المجتهد كتاب الصلاة الجملة الاولى۔المسئلة الثانية) نیز دیکھئے کتاب الصلوۃ، بابا روایت نمبر ۳۴۹۔حدیث الاسراء اور اس کے یہ الفاظ هِيَ خَمُسٌ وَ هِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ۔( یہ پانچ ہی پچاس ہیں۔میرے حضور قول بدلتا نہیں۔) صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوُتِرُ لَهُ : نماز وتر سے متعلق دوسرا اختلاف یہ ہے کہ کس طرح پڑھی جائے ؟ آیا دورکعتوں کے ساتھ اکٹھی یا الگ۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک وتر کی نماز تین رکعتیں بغیر سلام پھیرنے کے ہیں۔امام مالک دورکعتوں کے بعد سلام پھیرنا اور پھر ایک رکعت پڑھنا مستحب سمجھتے ہیں۔ان کا استدلال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عملدرآمد سے ہے کہ آپ دور کعتیں پڑھ کر سلام پھیر تے اور پھر ایک رکعت سے دوگانہ کو طاق کر دیا کرتے تھے۔امام شافعی کا مذہب بھی تقریباً یہی ہے۔ان کے نزدیک نماز وتر در حقیقت ایک رکعت ہی ہے۔(بداية المجتهد۔كتاب الصلاة الثاني۔الباب الأول القول فى الوتر ) روایت نمبر ۹۹۳۹۹۲۹۹۱،۹۹۰ سے بھی اسی امر کی تائید ہوتی ہے۔صَلاةُ اللَّيْل : ان روایتوں میں صَلاةُ اللَّيْلِ سے مراد نماز تہجد ہے۔امام بخاری نے نماز وتر اور نماز تہجد کے درمیان فرق کیا ہے اور ہر نماز کے الگ الگ باب باندھے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وتر سونے سے پہلے بھی پڑھے