صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 387
صحيح البخاری- جلد ۲ ۳۸۷ بالله العالم ١٤ - كتاب الوتر ١٤ - كِتَابُ الْوِتْرِ 0000000000 بَاب ۱ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ جو (احکام ) وتر سے متعلق آئے ہیں ۹۹۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۹۹۰: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللهِ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع اور عبداللہ بن بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ دینار سے، ان دونوں نے حضرت ( عبداللہ ) بن عمر ہ سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ رات کی نماز سے متعلق پوچھا۔ رسول اللہ علیہ السلام السَّلَامُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا نے فرمایا: رات کی نماز دو دورکعتیں ہیں۔ پھر جب تم خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً میں سے کسی کو خوف ہو کہ صبح ہو جائے گی تو ایک رکعت وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى۔ پڑھ لے وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنادے گی جو وہ پڑھ چکا ہے۔ اطرافه ٤٧٢ ، ٤٧٣ ، ۹۹٣، ۹۹۵، ۱۱۳۷۔ ۹۹۱: وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ۹۹۱ اور نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَةِ عمروتوں میں دورکعتوں کے بعد سلام پھیر کر ایک وَالرَّكْعَتَيْنِ فِي الْوِتْرِ حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ پڑھتے حتی کہ اپنی کسی ضرورت سے متعلق بھی کہہ دیا حَاجَتِهِ۔ کرتے۔