صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 384
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۸۴ ١٣ - كتاب العيدين شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا سے عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنَى تُدَفَفَانِ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ منی کے دنوں میں ان کے وَتَضْرِبَانِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہاں آئے اور ان کے پاس دولڑ کیاں تھیں، جو دف بجا وَسَلَّمَ مُتَغَشِ بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرِ رہی تھیں اور نہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کپڑا اپنے اوپر فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لئے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر نے ان کو جھڑ کا تو نہی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: عَنْ وَجْهِهِ فَقَالَ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرِ ابو بکر انہیں رہنے دو یہ تو عید کے دن ہیں اور یہ دن فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيْدٍ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ أَيَّامُ مِنِّى۔ منی کے دن تھے ۔ اطرافه ۹٤٩، ۹۵۲، ۲۹۰۷، ۳۵۳۰، ۳۹۳۱ ۹۸۸: وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ۹۸۸: حضرت عائشہ کہتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي وَأَنَا علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ نے مجھے پردہ کیا ہوا تھا اور میں أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُوْنَ فِي حبشیوں کو دیکھتی تھی جب کہ وہ مسجد میں کھیل رہے الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ تھے۔ حضرت عمر نے ان کو ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ أَمْنَا بَنِي نے فرمایا: انہیں رہنے دو ۔ بنی ارفدہ ! امن سے یعنی أَرْفِدَةَ يَعْنِي مِنَ الْأَمْنِ۔ بے فکر ہو کر کھیلو۔ اطرافه: ٤٥٤، ٤٥٥، ۹٥٠، ۲۹۰۹، ۳۵۲۹، ۳۹۳۱، ٥١٩٠، ٥٢٣٦ تشريح : إِذَا فَاتَهُ الْعِيدُ يُصَلِّى رَكْعَتَيْنِ : اس مسلہ میں پانچ مختلف آراء ہیں۔ امام احمدبن حنبل کا ہے کہ چار رکعتیں پڑھے جس طرح جمعہ میں شریک نہ ہو انہ ہونے والا چار رکعتیں پڑھتا ہے مگر ان کا یہ مذہب ہے؟ قیاس درست نہیں ۔ امام شافعی کا مذہب ہے کہ دور کعتیں قضا پڑھی جائیں ۔ امام مالک کا قول ہے کچھ نہ پڑھے۔ کیونکہ یہ ایسی نماز ہے جس کے لئے جماعت کا ہونا شرط ہے اور اس کے علاوہ جمعہ جو پانچ نمازوں میں سے ظہر کا بدل ہے ، اس کی قضا لازم ہوتی ہے مگر عید کسی نماز فریضہ کا بدل نہیں کہ قضاء لازم ہو۔ یہ دلیل بھی درست نہیں کیونکہ جمعہ نہ ملنے کی صورت میں ظہر کا پڑھنا در حقیقت قضا نہیں بلکہ اصل فرض کی ادائیگی ہے پس اگر جمعہ جو ایک بدل ہے نہ پڑھا جا سکے تو ام اہے نہ پڑھا جا سکے تو اصل فریضہ کا ادا