صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 379
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۷۹ ١٣ - كتاب العيدين الْعَوَائِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ : عوائق جمع ہے عاشق کی بمعنے دوشیزہ جو بلوغت کو پہنچ گئی ہو۔ (لسان العرب تحت لفظ عتق ( ذَوَاتُ الْخُدُورِ سے مراد پردہ دار جوان عورتیں ہیں۔ خدر کے معنی ہیں پردہ یا وہ حصہ مکان جو لڑکیوں کی سکونت کے لئے مخصوص ہو۔ (لسان العرب تحت لفظ خدر ) باب ۲۲ : النَّحْرُ وَالذَّبْحُ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُصَلَّى عید الاضحیہ کے دن عید گاہ میں (اونٹ اور دیگر جانوروں ) کا ذبح کرنا ۹۸۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۹۸۲: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ کہا: لیٹ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: بْنُ فَرْقَدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ كثير بن فرقد نے مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ نافع نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں اونٹ کی یا دوسرے يَنْحَرُ أَوْ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى۔ اطرافه ۱۷۱۰، ۱۷۱۱، 5551، ٥٥٥٢۔ جانور کی قربانی کرتے ۔ تشريح : النَّحْرُ وَالذَّبْحُ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُصَلَّی: ان جانوروں کا شہرسے باہر کرنا تواعد طبیہ کے لحاظ سے بھی پسندیدہ بات ہے۔ عید الاضحیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرنے کے بعد گھر لوٹتے اور کھانا تناول فرماتے اسی وجہ سے امام موصوف نے باب ۵ قائم کر کے استدلالاً اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس دن کھانا نماز اور قربانی کے بعد کھانا مسنون ہے۔ باب ۲۳ : كَلَامُ الْإِمَامِ وَالنَّاسِ فِي خُطْبَةِ الْعِيدِ وَإِذَا سُئِلَ الْإِمَامُ عَنْ شَيْءٍ وَهُوَ يَخْطُبُ عید کے خطبے میں امام اور لوگوں کا کلام کرنا اور اگر امام سے کچھ پوچھا جائے جبکہ وہ خطبہ دے رہا ہو ۹۸۳: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۸۳ مسدد ( بن مسرہد ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: