صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 355
البخاری جلد ۲ ۳۵۵ ۱۳ - كتاب العيدين چاہیں۔ان کے اعمال کا عنوان تو یہ آیت ہے: قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔(الانعام : ۱۶۳) کہ میری نماز، میری قربانی میری زندگی اور میری موت سب رب العالمین کے لئے ہیں۔اس باب کا عنوان قائم کرنے میں یہ احتیاط کی گئی ہے کہ اس میں نفس مسئلہ کو مہم رکھا گیا ہے۔نماز عید کے لئے نکلنے سے پہلے یا بعد کھانا کھانے کا ذکر نہیں کیا گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امام بخاری کی شرائط کے مطابق روایات میں نماز سے پہلے کھانے کی پوری صراحت نہیں۔ذبح کرنے کی صراحت تو ہے لیکن گوشت کھانے کی صراحت نہیں۔ترمذی وغیرہ کی روایتوں کو مد نظر رکھ کر نیز حضرت ابن نیار کے قول : تَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلاۃ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے کھانے کا استدلال کیا گیا ہے۔زیر روایت نمبر ۹۵ حضرت براء بن عازب کی یہی روایت مختصرا گذر چکی ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ منقول ہیں: إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَءُ بِهِ فِى يَوْمِنَا هَذَا أَنْ تُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَتَنْحَرُ اس سے بھی ظاہر ہے کہ عیدالاضحی کے دن پہلا کام نماز تھانہ کہ کھانا کھانا۔حضرت ابوسعید خدری اور حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے۔دیکھئے اگلا باب اور اس کی روایت نمبر ۹۵۶ اس کے ساتھ باب ۲۲ کی تشریح بھی دیکھی جائے۔باب ٦ : الْحُرُوْجُ إِلَى الْمُصَلَّى بِغَيْرِ مِنْبَرِ عید گاہ میں (خالی جانا ) منبر نہ لے جانا ٩٥٦: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۹۵۶ سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ بن جعفر نے ہم سے بیان کیا، کہا: زید بن اسلم ) نے أَخْبَرَنِي زَيْدٌ عَنْ عِيَاضٍ بْنِ مجھے بتانا۔انہوں نے عیاض بن عبد اللہ بن ابی سرح عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کی الْخُدْرِي قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں عید گاہ کو جاتے تو پہلا کام جس سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ آپ ابتداء کرتے وہ نماز ہوتی۔پھر فارغ ہو کر لوگوں وَالْأَصْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَأَوَّلُ شَيْءٍ کے سامنے کھڑے ہوتے اور لوگ اپنی اپنی صفوں میں يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ بیٹھے رہتے۔آپ ان کو وعظ و نصیحت کرتے اور احکام مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَی سے آگاہ فرماتے۔پھر اگر کوئی فوج بھیجنا چاہتے تو اس صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيْهِمْ کا فیصلہ کرتے یا کوئی اور حکم دینا ہوتا تو وہ دیتے۔پھر وَيَأْمُرُهُمْ فَإِنْ كَانَ يُرِيْدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا لوٹ جاتے۔حضرت ابوسعید کہتے تھے: لوگ ہمیشہ