صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 354
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۵۴ ١٣ - كتاب العيدين الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا شعبی سے، شعبی نے حضرت براء بن عازب سے قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: عید الاضحی کے دن نماز کے بعد يَوْمَ الْأَضْحَى بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَالَ مَنْ نبی ﷺ نے ہمیں مخاطب کیا۔ فرمایا: جس نے ہماری نماز صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی۔ أَصَابَ النُّسُكَ وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ تو اس نے ٹھیک قربانی کی اور جس نے نماز سے پہلے قربانی الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا نُسُكَ لَهُ کی چونکہ وہ نماز سے پہلے ہوئی اس کی کوئی قربانی نہیں۔ فَقَالَ أَبُوْ بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ خَالُ الْبَرَاءِ يَا اس پر حضرت ابو بردہ بن نیاز نے جو حضرت براء ( بن رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِّي نَسَكْتُ شَاتِي قَبْلَ عازب) کے ماموں تھے، کہا: یا رسول اللہ ! میں نے تو الصَّلاةِ وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكُل اپنی بکری نماز سے پہلے ذبح کرلی تھی۔ میں تو یہ سمجھا تھا وَشُرْبٍ وَأَحْبَبْتُ أَنْ تَكُوْنَ شَاتِي أَوَّلَ کہ آج کھانے پینے کا دن ہے اور میں نے چاہا کہ پہلی بکری جو ذبح ہو وہ میرے ہی گھر میں ہو اس لئے میں مَا يُذْبَحُ فِي بَيْتِي فَذَبَحْتُ شَاتِي وَتَعَدَّيْتُ قَبْلَ أَنَّ آتِيَ الصَّلَاةَ قَالَ نے اپنی بکری ذبح کر دی اور نماز کو آنے سے پہلے ناشتہ شَاتُكَ شَاةَ شَاةُ لَحْمٍ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَإِنَّ کیا۔ آپ نے فرمایا تمہاری بکری تو مر اس نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمارے پاس ایک سال کی پٹھیا عِنْدَنَا عَنَاقًا لَنَا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ ری بکری تو گوشت کی بکری ہوئی ہے جو مجھے دو بکریوں سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ کیا وہ مِنْ شَاتَيْنِ أَفَتَجْزِي عَنِّي قَالَ نَعَمْ وَلَنْ میری طرف سے بطور قربانی کافی ہوگی؟ آپ نے فرمایا: تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ۔ ہاں۔ تمہارے بعد کسی کو بطور قربانی کام نہ آئے گی۔ اطرافه: ٩٥١، ٩٦٥ ٩٦٨ ٩٧٦ ٠٩٨٣ ٥٥٤٥، ٥٥٥٦، ٠٥٥٥٧ ٥٥٦٠، ٠٥٥٦٣ ٦٦٧٣ تشريح : الأَكُلُ يَوْمَ النَّحْرِ : امام بخاری نے باب ۳ ہم کے بعد باب ۵ بھی درحق بھی در حقیقت مذکورہ بالا غرض ملحوظ رکھتے ہوئے قائم ئے قائم کیا ہے۔ باب ۵ میں ترندی اور حاکم کی مشار الیہا روایات کی کمزوری ثابت کرنا مقصود نہیں۔ جیسا کہ بعض شارحین کا خیال ہے ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۷۸) بلکہ اسلام کی سنت بیان کرنا مطلوب ہے کیونکہ حضرت ابوبردہ بن نیاڑ اپنی خواہش کے مطابق نماز سے پہلے ذبح کر کے کھانے پینے سے فارغ ہو گئے تھے۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شَاتُكَ شَاةٌ لَحْمٍ۔ (روایت نمبر ۹۵۵) مسلمانوں کے کام اپنی خواہش کے تحت نہ ہونے