صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 353
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۵۳ ١٣ - كتاب العيدين ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔ اپنے نفس کی خواہش سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق اپنی خواہشات پوری کی جائیں ۔ یہ وہ اصل الاصول ہے جس پر اسلام کی تعلیمات ات کی کی عمارت عمارت تو قائم ہے اور اسی میں انسان کی اصل عید ہے۔ عید الاسم لاضحی کی صبح کو نماز پڑھنے اور قربانی کرنے کے بعد کھانا کھایا جاتا ہے۔ جیسا کہ ترندی اور حاکم وغیرہ کی روایتوں میں تصریح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی کے بعد گھر تشریف لے جاتے ہاتے اور ناشتہ فرماتے تھے۔ (ترمذى، كتاب الجمعة، ابواب العيدين، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج) (المستدرك على الصحيحين للحاكم، كتاب الصلاة العيدين، باب لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم النحر حتى يرجع) دونوں موقعوں پر آپ کا مختلف طریق عمل اختیار کرنا بتاتا ہے کہ آپ ہم سے کیا چاہتے تھے۔ یہی کہ پہلے اپنی عبودیت اور قربانی کا عملی ثبوت پیش کریں پھر وہ عید منائیں اس کے بغیر کوئی عید عید نہیں۔ بَابه : الْأَكْلُ يَوْمَ النَّحْرِ عید الاضحی کے دن کھانا کھانا ٩٥٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۵۴: مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماء مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: اسماعیل نے ہمیں إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی ) سے، ایوب نے محمد (بن أَنَسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سیرین) سے، انہوں نے حضرت انس (بن مالک) سے وَسَلَّمَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِد روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ هَذَا يَوْمٌ يُسْتَهَى فِيْهِ نماز سے پہلے ذبح کیا، چاہیے کہ وہ دوبارہ ذبح کرے۔ اس پر ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا: یہ دن ہے جس میں اللَّحْمُ وَذَكَرَ مِنْ جِيْرَانِهِ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ قَالَ گوشت کی خواہش ہوتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کی محتاجی کا حال بیان کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وَعِنْدِي جَدَعَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ تصدیق کی۔ اس نے کہا اور میرے پاس ایک سال کی لَحْمٍ فَرَخَّصَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ پٹھیا ہے جو گوشت والی دو بکریوں سے مجھے بہت زیادہ وَسَلَّمَ فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّحْصَةُ مَنْ بند ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دی ۔ سِوَاهُ أَمْ لَا ۔ اطرافه: ٩٨٤، ٥٥٤٦ ، 5549، 5561۔ میں نہیں جانتا آیا یہ اجازت کسی اور کو بھی ہوئی یا نہیں۔ ٩٥٥: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۵۵: عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور نے