صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 352 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 352

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۵۲ ١٣ - كتاب العيدين ہیں اور طبعی تقاضوں کو پورا کرنے کی انہیں بھی ویسی ہی خواہش ہے جیسی مردوں کو ۔ اسلامی پردہ عورتوں کی جائز تفریحات میں حائل نہیں ہوتا۔ روایت نمبر ۹۸۸ میں حضرت عائشہ کے پردہ کرنے کا جو ذکر ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حبشیوں کی کھیلیں دیکھنے کے واقعہ سے پہلے پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ یہ جنگی کر تب تھے جو گڑ کا کی طرز پر کھیلے جاتے۔ ز تھے۔ بِغِنَاءِ بُعات محولہ بالا روایت میں بعاث کے گیتوں کا ذکر آتا ہے۔ بعاث قبیلہ اوس کے ایک قلعہ کا نام ہے جو مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھا۔ قبائل اوس و خزرج کے درمیان خون ریز لڑائیاں ہوئی ہیں جو ایک سو بیس سال تک ہوتی رہیں۔ آخری معرکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تین سال قبل بعاث مقام پر ہوا تھا۔ اس وجہ سے اس کا نام یوم بعث مشہور ہوا۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۶۹) وہ لڑکیاں جنگی گیت گارہی تھیں ۔ پس ایسی کھیلیں اور اس قسم کے گیت حرام نہیں بلکہ قوم میں شجاعت اور بہادری جیسی صفات پیدا کرنے کے لئے از بس ضروری ہیں۔ باب ٤ : الْأَكْلُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْخُرُوجِ عید الفطر کے دن باہر جانے سے پہلے کچھ کھانا صلى الله عل ٩٥٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ۹۵۳ محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سعيد بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: ہشیم حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ( بن بشیر ) نے ہمیں خبر دی ، کہا: عبید اللہ بن ابی بکر بن أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ انس نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالک) سے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا لا مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ علی عید الفطر يَعْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ کے دن نہ نکلتے ۔ جب تک کچھ کھجوریں نہ کھا لیتے۔ وَقَالَ مُرَجَّةُ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ مرجا بن رجاء نے کہا: عبیداللہ ( بن ابی بکر ) نے مجھ سے بیان کیا ، کہا: حضرت انس نے نبی ﷺ سے قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَأْكُلُهُنَّ وِتْرًا۔ روایت کرتے ہوئے مجھے بھی یہی بتایا (اور کہا:) اور آپ انہیں طاق صورت میں کھاتے۔ تشريح : الأَكُلُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْخُرُوج : عید اسلام میں خوشی کادن ہے جب کہ مسلمان اس ریاضت سے فارغ ہوتا ہے۔ جس کا تعلق ضبط شہوات نفس سے ہے یعنی رمضان کے روزوں میں ایک مسلمان اپنے اسلام یعنی فرمانبردار ہونے کا عملی ثبوت پیش کرتا ہے۔ رمضان کے خاتمہ پر عید کی صبح کو عید گاہ کی طرف نکلنے سے پہلے ناشتہ کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس دن خالی پیٹ روزہ کی حالت میں جانا عید کے اس مفہوم کے منافی ہے جو اسلام ہمارے