صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 351
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۵۱ ١٣ - كتاب العيدين الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ قَالَتْ وَلَيْسَتا سے دولڑکیاں تھیں، وہ گارہی تھیں جو اشعار بعاث کی الله بِمُغَنِيَتَيْنِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَزَامِيرُ جنگ میں انصار نے کہے تھے۔ کہتی تھیں : وہ کوئی ڈومنیاں الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تھیں۔ تو حضرت ابوبکر نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيْدٍ فَقَالَ گھر میں شیطان کی بانسریاں (لے کر بیٹھی ہو؟ ) اور یہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا واقعہ عید کے دن کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيْدًا وَهَذَا عِيدُنَا ۔ ہر ایک قوم کی عید ہوا کرتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ اطرافه: ۹۴۹، ۹۸۷، ۲۹۰۷، ۳۵۳۰، ۳۹۳۱ تشريح : سُنَّةُ الْعِيدَيْنِ لأَهْلِ الإسلام: (تشریح باب ۳۰۲۱) امام بخاری نے باب ۲۱ کے تحت ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن سے ضمنا یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کا اپنے تہواروں میں کیا دستور تھا۔ حضرت عمر کے الفاظ تَجَمَّلُ بِهَا لِلْعِيدِ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان دنوں میں خوبصورت لباس پہنے جاتے تھے اور لڑکیوں کے گانے اور حبشیوں کے کھیلنے سے ظاہر ہے کہ ان دنوں میں گایا بجایا اور کھیلا بھی جاتا تھا اور اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ان دو ابواب کے بعد تیسرا باب سَنَّةُ الْعِيدَيْنِ لَأَهْلِ الإِسْلَامِ قائم کرنے سے امام موصوف کا مقصد اس امتیاز کی طرف توجہ دلانا ہے جو اسلامی تہواروں کو دوسرے لوگوں کے تہواروں سے حاصل ہے۔ یعنی پہلی اور مقدم غرض تو عبادت ہے اور دوسرے درجہ پر یہ غرض ہے کہ انسان جائز طور پر اپنے نفس کی بھی خوشی پوری کرے۔ تیسرے باب کے تحت دوروایتیں ( نمبر ۹۵۱، ۹۵۲) انہی دو غرضوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے بطور استدلال لائی گئی ہیں۔ اسلام نے افراط و تفریط کے درمیان راه متوسط اختیار کر کے انسان کی خوشیوں کے موقعوں کو عبادت کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ اگر اطاعت الہی نہیں تو دنیا کی کوئی نعمت اس کو خوش نہیں کر سکتی ۔ پس خوشی کے موقعوں پر جب کہ غفلت کا زیادہ احتمال ہوتا ہے سب سے پہلے عام مسلمانوں کو اکٹھے ہو کر عبادت الہی بجالانے کا حکم دیا گیا ہے۔ تا اصل مدعائے زندگی ان کی نظر سے اوجھل نہ ہونے پائے اور ہمیشہ یہ ذہن نشین رہے کہ تمام افراد جب تک اطاعت الہی میں داخل نہ ہو جائیں اور جب تک ایک دوسرے کی خوشی میں شریک نہ ہوں کوئی قوم کچی عید نہیں منا سکتی۔ سچی عید یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں ہو کر انسان اپنے نفس کی خواہشات پوری کرے۔ جو لوگ لذات نفس میں اندھا دھند منہمک ہو جاتے ہیں وہ بھی حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں اور جو ان سے اپنے آپ کو محروم رکھتے ہیں وہ بھی جادہ استقامت پر نہیں ہوتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی راہ پر چل کر بنی نوع انسان کی صحیح رہنمائی فرمائی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جیسا کہ ایک موقع پر حضرت ابوبکر کو لڑکیوں کے گانے پر ناراضگی کا اظہار کرنے ۔ صلى الله عروسة ۔ نے سے روکا۔ روایت نمبر ۹۴۹) ایک دوسرے موقع پر حضرت عمرؓ کو بھی روکا ( روایت نمبر ۹۸۸) عورتیں بھی مردوں کی طرح انسان