صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 349
حيح البخاری جلد ۲ ۳۳۹ ١٣ - كتاب العيدين خَلَاقَ لَهُ وَأَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ الْجُبَّةِ کا لباس ہے جو ( آخرت میں ) بے نصیب ہیں اور فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپ نے مجھے یہ چوغہ بھیج دیا ہے۔رسول اللہ علی وَسَلَّمَ تَبِيْعُهَا أَوْ تُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ نے ان سے فرمایا: آپ اس کو بیچ دیں اور اس کی قیمت سے اپنی ضرورت پوری کر لیں۔اطرافه ۲۱۰٤،٨٨٦ ، ٢٦۱۲، ٢٦١٩، ٣٠٥٤، ٥٩٨١،٥٨٤١، ٦٠٨١۔بَاب ٢ : الْحِرَابُ وَالدَّرَقُ يَوْمَ الْعِيْدِ عید کے دن برچھیوں اور ڈھالوں سے کھیلنا ٩٤٩: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ حَدَّثَنَا :۹۴۹ احمد بن عیسی) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو أَنَّ ( عبدالله ) بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمن الْأَسَدِيُّ نے کہا: عمرو بن حارث ) نے ہمیں بتایا کہ محمد بن حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ عبدالرحمن اسدی نے عروہ سے، عروہ نے حضرت دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عائشہؓ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ میرے پاس آئے اور اس وقت میرے پاس دولڑ کیاں تھیں وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ جو بعاث کی لڑائی کے گیت گا رہی تھیں۔آپ بچھونے پر لیٹ گئے اور اپنا منہ ایک طرف کرلیا وَجْهَهُ وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ اور حضرت ابوبکر اندر آئے۔تو انہوں نے مجھ کو جھڑ کا مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ اور کہا: شیطان کی بانسریاں نبی ﷺ کے پاس ! عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ رسول اللہ علیہ السلام ان کی طرف متوجہ ہوئے اور عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ فرمایا: انہیں رہنے دو۔جب آپ کی توجہ ہٹ گئی تو میں نے ان دونوں کو اشارہ کیا۔وہ باہر چلی گئیں۔غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا۔اطرافه ،٩٥۲ ، ،۹۸۷، ۲۹۰۷، ۳۵۳۰، ۳۹۳۱ ٩٥٠ : وَكَانَ يَوْمَ عِيْدٍ يَلْعَبُ فِيْهِ ۹۵۰ اور یہ عید کا دن تھا۔اس دن حبشی لوگ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ فَإِمَّا ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے۔یا تو میں سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی یا خود آپ نے