صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 349 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 349

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۴۹ ١٣ - كتاب العيدين خَلَاقَ لَهُ وَأَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ الْجُبَّةِ کا لباس ہے جو ( آخرت میں ) بے نصیب ہیں اور کھے بھیم فَقَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپ نے مجھے یہ چوغہ صحیح دیا ہے۔ رسول الله علیه وَسَلَّمَ تَبِيْعُهَا أَوْ تُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ۔ نے ان سے فرمایا: آپ اس کو بیچ دیں اور اس کی قیمت سے اپنی ضرورت پوری کر لیں۔ اطرافه: ٨٨٦، ٢١٠٤ ، ٢٦١٢، ٢٦١٩، ٣٠٥٤، ٥٨٤١، 5981، 6081۔ باب ٢ : الْحِرَابُ وَالدَّرَقُ يَوْمَ الْعِيدِ عید کے دن برچھیوں اور ڈھالوں سے کھیلنا صلى الله ٩٤٩: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۴۹: احمد (بن عیسی ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو أَنَّ (عبد اللہ ) بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيَّ نے کہا: عمرو ( بن حارث ) نے ہمیں بتایا کہ محمد بن حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ عبد الرحمن اسدی نے عروہ سے، عروہ نے حضرت دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عائشہ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں نبی وہ ہی علی میرے وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ پاس آئے اور اس وقت وقت میرے پاس دولڑکیاں تھیں جو بعاث کی لڑائی کے گیت گا رہی تھیں۔ آپ بُعَاثَ فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ بچھونے پر لیٹ گئے اور اپنا منہ ایک طرف کرلیا وَجْهَهُ وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَالْتَهَرَنِي وَقَالَ مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ اور کہا: شیطان کی بانسریاں نبی ﷺ کے پاس ! عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ رسول اللہ علیہ السلام ان کی طرف متوجہ ہوئے اور عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ فرمایا: انہیں رہنے دو ۔ نے دو ۔ جب آپ کی توجہ ہٹ گئی تو غَمَرْتُهُمَا فَخَرَجَتَا ۔ اور حضرت ابو بکر اندر آئے ۔ تو انہوں نے مجھ کو جھڑ کا میں نے ان دونوں کو اشارہ کیا۔ وہ باہر چلی گئیں۔ اطرافه ۹۵۲، ۹۸۷، ۲۹۰۷، ۳۵۳۰، ۳۹۳۱ ٩٥٠ : وَكَانَ يَوْمَ عِيْدٍ يَلْعَبُ فِيْهِ ۹۵۰ اور یہ عید کا دن تھا۔ اس دن حبشی لوگ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ فَإِمَّا ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے۔ یا تو میں سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی یا خود آپ نے