صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 345
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۴۵ ١٢ - كتاب الخوف وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَيِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ۔(اس کا ) ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا گیا تو آپ نے ان میں سے کسی کو ملامت نہیں کی۔اطرافه: ٤١١٩۔تشریح: صَلاةُ الطَّالِبِ وَالْمَطْلُوبِ رَاكِبًا وَّ إِيمَاء: یہ دونوں موقعے نازک ہوتے ہیں لیکن جس کا پیچھا کیا جارہا ہو وہ عموماً بہ نسبت حملہ آوروں کے زیادہ خطرے میں ہوتا ہے۔شرحبیل نے جس کا ذکر عنوان باب میں کیا گیا ہے، حضرت عمر کے زمانہ میں خالد بن ولید کی زیر قیادت حمص فتح کیا تھا۔شرحبیل نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ صبح کی نماز سواری پر ہی ادا کی جائے مگر اشتر نخعی نے سواری سے اتر کر نماز پڑھی۔شرحبیل نے اسے برامانا اور کہا: مُخَالِفٌ خَالَفَ الله به خلاف ورزی کرنے والا۔اس نے اللہ کے حکم کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۶۳) ولید بن مسلم نے اوزاعی سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے جواز کا فتویٰ دیا۔مگر ا سے مشروط کر دیا ہے یعنی اگر نماز کا وقت یا دشمن کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ ہو تو سواری پر ہی اشارہ سے نماز پڑھ لی جائے۔مسلم بن ولینڈ نے اس فتویٰ کی تائید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشاد سے استدلال کیا ہے۔غزوہ احزاب سے فارغ ہونے پر بنو قریظہ کی سرکوبی کے لئے آپ نے ان پر چڑھائی کرنے کا حکم دیا۔کیونکہ اس یہودی قبیلہ نے جنگ کے اثناء میں عہد شکنی کی۔قریش اور قبائل کو اُکسایا اور مسلمانوں کے خلاف اسلام کے دشمنوں کو ساز و سامان سے مدد دی۔آپ نے منادی کی کہ عصر کی نماز بنوقریظہ میں پڑھی جائے گی۔راستے میں سورج غروب ہونے لگا تو بعض نے اس حکم کا احترام کیا اور نماز نہیں پڑھی اور بعض نے سواری پر ہی نماز پڑھ لی۔آپ نے کسی کو ملامت نہیں کی۔اس واقعہ سے دونوں صورتیں جواز کی ثابت ہوتی ہیں۔اِذَا تَخَوف الفوت کے یہ معنے بھی ہیں کہ جب دشمن کے ہاتھ سے نکل جانے کا ڈر ہو تو سواری پر ہی نماز پڑھ لی جائے یا بعد از وقت قضاء پڑھ لے۔مگر قضاء کی صورت اس وقت جائز ہوگی کہ جب امام کا صریح حکم ہو جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ حکم تھا: لَا يُصَلِّيَنَّ اَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِى قُرَيْظَةَ۔ورنہ در اصل مسئلہ یہی ہے کہ سواری پر ہی اشارہ سے پڑھ لے۔اگر نماز کے وقت کا بادشمن کے ہاتھ سے نکل جانے کا ڈر ہو تو حکم کی تمی لازمی ہے۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور شرحبیل کے دو مختلف حکموں کا حوالہ دے کر اطاعت کی طرف توجہ دلائی ہے جو اسلام کا اصل مغز ہے۔اجتہاد ہر ایک کا کام نہیں۔سواری پر نماز پڑھنے کی حالت میں بھی ممکن ہے کہ ذراسی ڈھیل میں دشمن ہاتھ سے نکل جائے۔ایسے نازک موقعوں پر امیر کے صریح حکم کی پابندی لازم ہے۔اسی وجہ سے شرحبیل نے شخصی کو باوجود نماز ادا کرنے کے اللہ تعالیٰ کی خلاف ورزی کرنے والا ٹھہرایا ہے۔کیونکہ نازک وقت میں حکم کی تعمیل ضروری ہوتی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فوت ہو جانے پر بوجہ تقی حکم ملامت نہیں کی۔جہاں امام یا امیر کا صریح حکم نہ ہو اور اپنے اختیار کی بات ہو تو وہاں اجتہاد میں موازنہ سے کام لے سکتا ہے۔جیسا کہ حضرت عمر نے جنگ احزاب میں کیا۔( روایت نمبر ۹۴۵) یعنی حالات کا جو مناسب تقاضا ہو اس کے مطابق عمل کیا جائے۔