صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 344
حيح البخاري - جلد ۲ مسم ١٢ - كتاب الخوف تستر : اهواز کے شہروں میں سے ایک شہر ہے جو ۲۰ھ میں بعہد خلافت ثانیہ حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ میں فتح ہوا تھا۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۶۱۰۵۶۰) فوج کے امیر حضرت ابو موسیٰ اشعری تھے اور حضرت انس مقدمتہ الجیش کے افسر تھے۔شتر میں ہرمزان نے اپنے آپ کو حضرت انس کے امان دینے پر مسلمانوں کے حوالے کر دیا تھا اور پھر حضرت عمر کے پاس جا کر انہوں نے اسلام قبول کیا۔(مصنف ابن ابی شیبه کتاب التاريخ، تتمة باب رقم ما ذكر في تستر ، جزء 2 صفر ۳) بَابه : صَلَاةُ الطَّالِبِ وَالْمَطْلُوبِ رَاكِبًا وَإِيْمَاءً جو کوئی دشمن کے پیچھے لگا ہو یا دشمن اس کے پیچھے لگا ہو، سوار رہ کر اور اشمارے سے نماز پڑھنا وَقَالَ الْوَلِيدُ ذَكَرْتُ لِلْأَوْزَاعِيّ صَلَاةَ اور ولید بن مسلم) نے کہا: میں نے اوزاعی سے شرَحْبِيْلَ بْن السّمْطِ وَأَصْحَابِهِ عَلَى شرحبيل بن سمط اور ان کے ساتھیوں کا سواری کی پیٹھ الدَّابَّةِ فَقَالَ كَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا پر نماز پڑھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہمارا بھی یہی إِذَا تُخْوِفَ الْفَوْتُ وَاحْتَجَّ الْوَلِيدُ نذہب ہے۔بشرطیکہ وقت نکل جانے کا خوف ہو اور بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّيَنَّ ولید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ۔استدلال کیا ہے کہ کوئی تم میں سے عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ میں۔٩٤٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ :۹۴۶ عبدالله بن محمد بن اسماء نے ہم سے بیان کیا، بْن أَسْمَاءَ قَالَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ کہا کہ جویریہ (بنت اسماء) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ نافع سے، نافع نے ( حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا لَمَّا رَجَعَ مِنَ کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ الْأَحْزَابِ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا جنگ احزاب سے لوٹے ؛ ہم سے فرمایا: کوئی بھی عصر کی فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ نماز نہ پڑھے مگر بنو قریظہ میں۔پھر بعض کو عصر کا وقت فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا نُصَلِّي راستے میں ہی آگیا اور بعض نے کہا: ہم وہاں پہنچ کر ہی حَتَّى نَأْتِيَهَا وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ نُصَلِّي لَمْ نماز پڑھیں گے۔بعضوں نے (مجھ سے) کہا: نہیں بلکہ يُرَدْ مِنَّا ذَلِكَ فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہم نماز پڑھ لیتے ہیں۔آپ کا یہ مطلب نہیں تھا۔