صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 335
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۳۵ ١١ - كتاب الجمعة تَجْعَلُ عَلَيْهِ قَبْضَةً مِنْ شَعِيْرِ تَطْحَنُهَا اور اس کے اوپر مٹھی بھر جو کا آٹا پیس کر ڈالتی۔گویا فَتَكُوْنُ أَصْوْلُ السّلْقِ عَرْقَهُ وَكُنَّا چقندر کی جڑیں اس میں بوٹیاں ہوتیں۔ہم جمعہ کی نماز تَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ فَنُسَلّم سے فارغ ہو کر لوٹتے اور اس کو سلام کرتے اور وہ یہ عَلَيْهَا فَتُقَرِّبُ ذَلِكَ الطَّعَامَ إِلَيْنَا فَتَلْعَقُهُ کھانا ہمارے سامنے رکھتی اور ہم اس کو چاٹ لیتے اور وَكُنَّا نَتَمَنَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِطَعَامِهَا ذَلِكَ۔اس کے اس کھانے پر ہمیں جمعہ کے دن کی آرزو رہتی۔اطرافه: ۹۳۹، ٩٤۱، ٢٣٤٩ ، ٥٤٠٣، ٦٢٤٨ ٦٢٧٩۔۹۳۹: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۹۳۹ عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ ( عبد العزيز ) بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سَهْلِ بِهَذَا وَقَالَ مَا كُنَّا نَقِيْلُ وَلَا اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت سہل (بن نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَة۔سعد) سے روایت کرتے ہوئے یہی بیان کیا اور کہا: ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ بھی کرتے اور کھانا بھی کھاتے تھے۔اطرافه ۹۳۸، ٩٤۱، ٢٣٤٩، ٥٤٠٣، ٦٢٤٨ ٦٢٧٩۔تشریح : وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ : شروع میں بتایا جاچکا ہے کہ جمعہ کا دن احکام سبت کی پابندیوں سے آزاد ہے۔اس دن فریضہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے اوقات مخصوصہ میں کاروبار منع ہے۔اس کے پہلے یا بعد مسلمان کو اجازت ہے کہ کاروبار کرے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائے۔یہود، عیسائی عائد کردہ پابندیوں کی نگہداشت نہ رکھ سکے۔ایک نے عمل سرکشی کی اور دوسرے نے کہہ دیا کہ بار شریعت انسان کے لئے لعنت ہے جو اٹھایا ہی نہیں جا سکتا اور اس نے خون مسیح کے کفارہ کی پناہ لی۔اسلام نے بڑا احسان کیا کہ نفس کو اس کا حق دیا اور خالق کو اس کا حق اور ہدایت کی کہ روح کو روح کی غذا دو اور جسم کو جسم کی غذا اور اسطرح دونوں کی راحت سے فائدہ اٹھاؤ۔فرماتا ہے: فَإِذَا قُضِيَت الصَّلَوةُ فَانتَشِرُوا فِى الْأَرْضِ (الجمعه : (۱) پس جب نماز ادا کی جا چکی ہو تو زمین میں منتشر ہو جاؤ۔} روایت نمبر ۹۳۸ میں جس عورت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایک دوکاندار تھی۔جو جمعہ کے دن کھانے پینے کی چیزیں اپنے ہاں تیار کرتی اور جمعہ سے فارغ ہو کر صحابہ کرام جو مضافات سے آتے اس سے خوردنی اشیاء لیتے اور اس کے عوض کسی کے پاس جو میسر ہوتا اسے دیتا۔اس سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے لئے تجارت کرنا منع نہ تھا وہاں صحابہ کرام کے شوق نماز اور قناعت کا بھی پتہ چلتا ہے۔