صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 333 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 333

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۳۳ ١١ - كتاب الجمعة الصَّلَوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَوةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْاَبْصَارُ (ایسے عظیم مرد جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے یا نماز کے قیام سے یا ز کوۃ کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے۔وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل خوف سے ) الٹ پلٹ ہو رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی۔} حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت دحیہ کلبی کے جس قافلے کا شام سے لوٹنے کا روایات میں ذکر آتا ہے۔وہ سورۃ جمعہ نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔(دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۴۴ ۵۴۵) اس لئے از روئے درایت لفظ فَنَزَلَتْ در حقیقت تطبیق دینے کے معنے میں ہی استعمال کیا گیا ہے اور جمعہ چھوڑ کر بھاگنے والے مخلص مہاجرین اور انصار نہ تھے بلکہ منافقین تھے۔جن کا ذکر صیغہ مخاطب میں نہیں بلکہ صیغہ غائب سے از را تحقیر کیا گیا ہے۔وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهُوْا انْفَضُّوا إِلَيْهَا جب وہ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔یہ تجارت یا تماشہ دیکھنے والے ایسے ہی لوگ تھے۔۲ھ اور ۳ھ کا عرصہ خاص طور پر جنگوں کا تھا۔صرف ۲ھ میں سات چھوٹے بڑے حملے ہوئے۔پس اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کسی خاص واقعہ کی بناء پر مذکورہ بالا تنبیہ نازل ہوئی تھی اور اس قسم کے واقعہ کا ابتدائی زمانہ میں رونما ہونا طبعی امر تھا تو نماز سے کھسکنے والے یقینا ایسے ہی کمزور طبع لوگ تھے جو مدینہ میں ہی رہے اور جنہیں جنگی دستوں کے ساتھ احتیاطا نہیں بھیجا گیا تھا کہ میدان جنگ میں گڑ بڑ پیدا نہ کریں۔بارہ کی تعداد سے نہ روایہ نہ در الیت ثابت ہے کہ تمام انصار و مہاجرین مشار الیہ واقعہ کے وقت جمعہ میں موجود تھے، جو قافلے کی خبر سن کر بھاگ پڑے اور آپ کو تنہا چھوڑ دیا ہو بلکہ زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بھاگنے والے منافقین تھے نہ کہ جاں نثار انصار ومہاجرین۔باب :۳۹: الصَّلَاةُ بَعْدَ الْجُمُعَةِ وَقَبْلَهَا جمعہ کے بعد اور اس سے پہلے نماز پڑھنا ۹۳۷: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۹۳۷: عبداللہ بن یوسف (تینسی) نے ہم سے قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْر رَكْعَتَيْنِ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْن وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ دورکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور مغرب کے رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ بعد اپنے گھر میں دورکعتیں اور عشاء کے بعد وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى دورکعتیں پڑھا کرتے تھے اور جمعہ کے بعد ( مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔جب گھر لوٹ کر جاتے تو دورکعتیں پڑھتے۔يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ۔اطرافه ۱۱٦٥، ۱۱۷۲، ۱۱۸۰۔