صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 330
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۳۰ ۱۱ - كتاب الجمعة رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ فِيْهِ سَاعَةٌ لَا ذکر کیا اور فرمایا: اس میں ایک گھڑی ہے جو مسلمان يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي بندہ اس گھڑی کو ایسی حالت میں پائے گا کہ وہ (اس يَسْأَلُ اللهَ تَعَالَى شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ میں کھڑا نماز پڑھ رہا ہوگا تو وہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ سے مانگے گا وہ اس کو ضرور دے گا اور آپ نے ہاتھ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا۔سے اشارہ کیا کہ وہ گھڑی تھوڑی سی ہے۔اطرافه: ٥٢٩٤، ٦٤٠٠ - السَّاعَةُ الَّتِى فِى يَوْمِ الْجُمُعَةِ : باب ۳۷ میں قبولیت کی خاص گھڑی کا ذکر کر کے یہ اشارہ تشریح: بھی کر دیا ہے کہ بالکل ممکن بلکہ قرین قیاس ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی الہی کی تجلی سے انکشاف ہو گیا ہو کہ یہ قبولیت کی گھڑی ہے۔چنانچہ دعا کرنے کے معا بعد اسی وقت بارش کا شروع ہو جانا، اس خاص قبولیت پر ایک شاہد ناطق ہے۔قبولیت کی اس گھڑی کی تعیین میں بیالیس اقوال مروی ہیں۔ان میں سب سے زیادہ صحیح حضرت ابوموسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ قبولیت کی گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے اور نماز سے فارغ ہونے کے درمیان ہے۔(مسلم کتاب الجمعة- باب في الساعة التي في يوم الجمعة ) اور اس بارہ میں حضرت عبد اللہ بن سلام کی روایت بھی بہت مشہور ہے کہ وہ گھڑی عصر کے بعد سورج ڈوبنے تک ہے۔حضرت ابو ہریرہ نے ان پر اعتراض کیا ہے کہ اس وقت تو نماز جائز نہیں اور ان کی محولہ بالا روایت میں ہے۔وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّی یعنی وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو۔عبد اللہ بن سلام نے اس کا یہ جواب دیا کہ نماز کا انتظار کرنے والا بھی نماز میں ہی ہوتا ہے۔حضرت ابو ہریر کا یہ جواب سن کر خاموش ہو گئے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۴۰) اس سے بعض نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وہ روایتیں جن میں حدیث نبوی کے الفاظ سے قائِم کا لفظ محذوف ہے۔باعتبار لفظی صحت زیادہ صحیح ہیں۔ورنہ حضرت ابو ہریرہ حضرت عبد اللہ بن سلام کو لفظ قائم کی طرف توجہ دلاتے۔کیونکہ کھڑے ہو کر نماز کا انتظار کرنا کوئی معنے نہیں رکھتا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کے نزدیک یہ لفظ ثابت شدہ نہیں اور نماز کی انتظار کرنے والا عموما بیٹھا ہوتا ہے۔اس لئے صلوۃ سے مطلق دعا اور نماز کی حالت مراد ہے۔عبداللہ بن سلام کی روایت بھی صحیح ہے۔قَائِمٌ يُصَلَّی کے الفاظ کی وجہ سے ان کی روایت با عتبار سند کمزور نہیں۔کیونکہ لفظ ” قیام مجازا مداومت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔قَائِمٌ يُصَلِّی کے معنے ہوں گے دعا کرتا رہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۳۴) امام ابن حجر عسقلانی نے مختلف اقوال پر جرح و قدح کر کے آخر میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قبولیت کی گھڑی کا تعلق در حقیقت ہر نمازی کی اپنی معنویات سے ہے جو مختلف اوقات میں فیوض ربانیہ کا مورد بن کر استجابت دعا کی