صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 329
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۹ ۱۱ - كتاب الجمعة بَاب ٣٦ : الْإِنْصَاتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ جمعہ کے دن جب کہ امام لوگوں سے مخاطب ہو خاموش ہو کر سننا وَإِذَا قَالَ لِصَاحِبِهِ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَا اور اگر کسی نے اپنے ساتھی سے کہا: چپ رہو تو اس وَقَالَ سَلْمَانُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے بھی لغو بات کی اور حضرت سلمان ( فارسی ) نے وَسَلَّمَ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ جب امام بولے تو سامع چپ ہوکر سنے۔ ٩٣٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۹۳۴: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمیں حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ لیث نے بتایا۔ انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ شہاب سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: سعید بن أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ الله میب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ نے انہیں خبر قَالَ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ دی کہ رسول اله صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے ساتھی سے جمعہ کے وقت جبکہ امام لوگوں سے مخاطب أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ۔ ہو کہو چپ رہو تو تم نے بھی لغو بات کی ۔ تشريح : الْإِنْصَاتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ : عام حالات میں تو یہی حکم ہے کہ انسان خطبہ خاموشی سے سنے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بولنا نفل پڑھنے والے کا نفل پڑھنا، دیہاتی کا درخواست کرنا اور آپ کا خطبہ کے اثناء دعا میں مشغول ہو جانا ۔ ( روایات مندرجہ باب ۳۲ تا ۳۵) یہ سب استثنائی حالات ہیں۔ مخصوص حالات کے تحت مخصوص تعامل کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ امام بخاری نے اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے سابقہ ابواب کو ایک خاص ترتیب میں رکھ کر باب ۳۶ میں وہ حکم جس کا تعلق عام حالات سے ہے دہرایا ہے۔ باب ۳۷ : السَّاعَةُ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وہ قبولیت کی گھڑی جو جمعہ کے دن میں ہے ٩٣٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۹۳۵: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ مالک سے، مالک نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت