صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 328
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۸ ۱۱ - كتاب الجمعة يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا تک نہیں اترے جب تک میں نے مینہ کے قطرے ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَبَعْدَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيْهِ آپ کی داڑھی پر سے ٹپکتے نہ دیکھے۔غرض اس روز حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَقَامَ ذَلِكَ دن بھر ہم پر بارش ہوتی رہی اور اگلے دن بھی اور اس سے اگلے دن بھی اور اس کے بعد کے دنوں میں بھی الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ دوسرے جمعہ تک۔پھر وہی دیہاتی یا ( راوی نے یہ ) اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ کہا، کوئی اور شخص اٹھا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ ! لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عمارتیں گر گئیں اور جانور ڈوب گئے۔آپ اللہ سے عَلَيْنَا فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِّنَ ہمارے لئے دعا کریں۔تب آپ نے اپنے ہاتھ السَّحَابِ إِلَّا الفَرَجَتْ وَصَارَتِ اٹھائے اور کہا: اے اللہ ! ہمارے اردگرد ( ہو) اور ہم الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي پر نہ ہو۔آپ ابر کے جس کنارے کی طرف بھی اپنے قَناةُ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا ہاتھ سے اشارہ فرماتے وہ پھٹ جاتا اور مدینہ تالاب سا بن گیا تھا اور قنات کا نالہ مہینہ بھر بہتا رہا۔اور جس حَدَّثَ بِالْجَوْدِ۔طرف سے بھی کوئی آتا کثرت باراں کا ہی ذکر کرتا۔اطرافه: ۹۳۲، ۱۰۱۳، ۱۰۱۹، ۱۰۲۱، ۱۰۲۹، ۱۰۳۳، 35۸۲، 6093، ٦٣٤٢۔تشریح: الْإِسْتِسْقَاءُ فِى الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : امام مسلم نے حضرت عمارہ بن رویبہ کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں ہے کہ اثناء خطبہ میں ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے۔(مسلم، کتاب الجمعة۔باب تخفيف الصلاة والخطبة ) امام بخاری نے مذکورہ بالا عنوان قائم کر کے یہ بتایا ہے کہ رفع الیدین سے یہاں وہ مراد نہیں جو تکبیر کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ دعا کے لئے ہاتھ پھیلا نا مراد ہے۔فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا روایت نمبر ۹۳۲؛ روایت نمبر ۹۳۳ میں بھی ایک دوسری سند سے نقل کی گئی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: فَرَفَعَ يَدَيْهِ : یہاں رفع بمعنے مدیعنی ہاتھ پھیلایا۔کتاب المناقب باب علامات النبوۃ روایت نمبر ۳۵۸۲ اور کتاب الاستسقاء میں بھی روایت مندرجہ باب ۳۴ و باب ۳۵ مفصل بیان کی گئی ہے۔اس روایت کی بناء پر مذکورہ دو باب یہ بتانے کے لئے قائم کئے گئے ہیں کہ خطبہ میں نہ بولنے کا حکم در حقیقت سامعین سے تعلق رکھتا ہے۔خاص استثنائی حالات میں سامعین میں سے بعض نے بات کی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نہیں روکا۔بلکہ ان کی درخواست دعا قبول فرمائی اور آپ خطبہ کے اثناء میں ہی دعا میں مشغول ہو گئے۔پس مسائل کی بنیاد استثنائی واقعات پر قائم کرنا درست نہیں۔