صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 324
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۲۴ بَاب ۳۱: الْإِسْتِمَاعُ إِلَى الْخُطْبَةِ خطبہ غور سے سننا ۱۱ - كتاب الجمعة :۹۲۹: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ :۹۲۹ آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ( محمد بن أَبِي ذِنْبِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ عبد الرحمن ) بن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اللهِ الْأَغَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ زہری سے، زہری نے ابو عبداللہ اغر ( سلمان) سے، النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی۔وہ کہتے يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن بَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ہوتا ہے تو ملائکہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي لکھتے ہیں جو پہلے آتا ہے، اس کا پہلے اور سویرے جانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اونٹ کی بَدَنَةً ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَبْشًا قربانی کرتا ہے۔پھر اس شخص کی جو ایک گائے کی اور ثُمَّ دَجَاجَةً ثُمَّ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ پھر اس کی جو ایک مینڈھے کی۔پھر اس کی جو مرغی کی طَوَوْا صُحْفَهُمْ وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ قربانی کرتا ہے۔پھر اس کی جو انڈے کی قربانی کرتا ہے۔پھر جب امام نکلتا ہے تو وہ اپنے کاغذ لپیٹ لیتے اطرافه: ۳۲۱۱ تشریح: ہیں اور غور سے نصیحت سنتے ہیں۔طَوَ وَاصْحُفَهُمُ : ملائکہ کے لکھنے اور کا غذات لیٹنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ بھی ہماری طرح قلم ، دوات اور کاغذات کے محتاج ہیں۔یہ الفاظ اس لئے اختیار کئے گئے ہیں کہ عالم روحانی کی کیفیات بیان کرنے کے لئے بجز اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنے الفاظ میں انہیں بیان کریں۔مادی دنیا کے حادثات کا اثر ان کی اپنی اپنی نوعیت کے مطابق ملائکتہ اللہ کے ذریعے سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام- روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۸۰۷۹) الفاظ طَوَوْا صُحُفَهُمْ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ جمعہ شروع ہونے سے پہلے آنے والوں کے لئے وہ ثواب مقدر ہے جس کی مثال مختلف قسم کی قربانی سے دی گئی ہے۔( اس تعلق میں تشریح باب ہم بھی دیکھئے )