صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 310 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 310

صحيح البخاری جلد ۲ بَاب ٢٤ : الْجُلُوْسُ عَلَى الْمِنْبَرِ عِنْدَ التَّأْذِينِ اذان دیئے جانے کے وقت (امام کا ) منبر پر بیٹھنا ۱۱ - كتاب الجمعة ٩١٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ :۹۱۵ جی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابن أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّ التَّأْذِيْنَ شہاب سے روایت کی کہ سائب بن یزید نے انہیں الثَّانِيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ بتایا: جمعہ کے دن دوسری اذان دینے کا حکم حضرت حِيْنَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَكَانَ التَّأْذِينُ عثمان نے دیا تھا، جب مسجد میں آنے والے لوگ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِيْنَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ۔بہت ہو گئے تھے اور جمعہ کے دن اذان اس وقت دی جاتی ہے جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔اطرافه ۹۱۲، ۹۱۳، ۰۹۱۹ تشریح: الْجُلُوسُ عَلَى الْمِنْبَرِ عِنْدَ التَّأْذِينِ: بعض فقہاء کوفہ مسئلہ معنونہ کوسنت نبوی نہیں مانتے۔مگر امام مالک، شافعی اور جمہور کے نزدیک یہ بھی سنت ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۱۰ ) روایت نمبر ۹۱۵ کے الفاظ حِيْنَ يَجْلِسُ میں گو منبر پر بیٹھنے کا ذکر نہیں۔مگر اس سے مراد یہی ہے کہ منبر پر ایسے وقت میں بیٹھے جب اذان ہو رہی ہو۔جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی صراحت ہے۔یہ دونوں روایتیں ایک ہی ہیں۔سند کے اختلاف کی وجہ سے ایک مجمل ہے اور دوسری مفصل۔امام کا یہ عمل حکمت پر مبنی ہے۔اس کو منبر پر بیٹھے دیکھ کر لوگ بالطبع خاموش ہو جائیں گے اور خطبہ سننے کے لئے ان میں تیاری کا احساس پیدا ہوگا اور کلمات اذان سے نفوس ذکر الہی کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔( فتح الباری جیز ثانی صفحه ۵۱۰) باب نمبر ۲۶ کے تحت روایت نمبر ۹۱۷ بیان کر کے امام بخاری نے بھی اسی غرض وغایت کی طرف اشارہ کیا ہے: انما صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُونِي۔میں نے یہ صرف اس لئے کیا ہے کہ تم میری اقتداء کرو۔بَاب ٢٥ : التَّأْذِينُ عِنْدَ الْخُطْبَةِ خطبہ کے وقت اذان دینا ٩١٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ :٩١٦ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عبدالله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: