صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 310
صحيح البخاری جلد ۲ اسم ۱۱ - كتاب الجمعة بَاب ٢٤ : الْجُلُوسُ عَلَى الْمِنْبَرِ عِنْدَ التَّأْذِيْنِ اذان دیئے جانے کے وقت (امام کا ) منبر پر بیٹھنا ٩١٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ ۹۱۵: يحيی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے تحقیل سے عقیل نے ابن أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّ التَّأْذِينَ شہاب سے روایت کی کہ سائب بن لہ سائب بن یزید نے انہیں الثَّانِيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ بتایا: جمعہ کے دن دوسری اذان دینے کا حکم حضرت حِيْنَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَكَانَ التَّأْذِينُ عثمان نے دیا تھا، جب مسجد میں آنے والے لوگ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِيْنَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ ۔ بہت ہو گئے تھے اور جمعہ کے دن اذان اس وقت دی جاتی ہے جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ اطرافه ۹۱۲، ۹۱۳، 916۔ دنہ کو سنت نبوی مانتے ۔ تشريح : الْجُلُوسُ عَلَى الْمِنْبَرِ عِنْدَ التَاذِين بعض فقار کو مسل معنون کوسن نبوی ہیں ما مگر امام مالک، شافعی اور جمہور کے نزدیک یہ بھی ۔ یہ بھی سنت ۔ ہے ۔ (فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۱۰ ) روایت نمبر ۹۱۵ کے الفاظ حِينَ يَجْلِسُ میں گو منبر پر بیٹھنے کا ذکر نہیں ۔ مگر اس سے مراد یہی ہے کہ منبر پر ایسے وقت میں بیٹھے جب اذان ہو رہی ہو۔ جیسا کہ اگلی روایت میں اس کی صراحت ہے۔ یہ دونوں روایتیں ایک ہی ہیں۔ سند کے اختلاف کی وجہ سے ایک مجمل ہے اور دوسری مفصل ۔ امام کا یہ عمل حکمت پر بنی ہے۔ اس کو منبر پر بیٹھے دیکھ کر لوگ بالطبع خاموش ہو جائیں گے اور خطبہ سننے کے لئے ان میں تیاری کا احساس پیدا ہو گا اور کلمات اذان سے نفوس ذکر الہی کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحه ۵۱۰) باب نمبر ۲۶ کے تحت روایت نمبر ۹۱۷ بیان کر کے امام بخاری نے بھی اسی غرض وغایت کی طرف اشارہ کیا ہے: اِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُوْبِی۔ میں نے یہ صرف اس لئے کیا ہے کہ تم میری اقتداء کرو۔ باب ٢٥ : التَّأْذِينُ عِنْدَ الْخُطْبَةِ خطبہ کے وقت اذان دینا ٩١٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۹۱۶ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عبدالله بن مبارک ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: