صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 308
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۰۸ ۱۱ - كتاب الجمعة عُثْمَانُ لهُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہوا اور لوگ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ { قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ بہت ہو گئے تو انہوں نے زوراء میں تیسری اذان الزَّوْرَاءُ مَوْضِعُ بِالسُّوقِ بِالْمَدِينَةِ } بڑھا دی۔ { ابوعبداللہ نے کہا: زوراء مدینہ کے اطرافه 91۳، 915، 916۔ بازار میں ایک مقام ہے ۔} تشريح : الْأَذَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : تعمیر اقامت کو اذان کہا گیا ہے۔ (دیکھئے کتاب الاذ نے کتاب الاذان باب ۴ ا و باب ۱۶ نیز روایت نمبر ۹۱۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے زمانہ میں صرف دو اذانیں ہی ہوا کرتی تھیں۔ پہلی اذان اور تکبیر اقامت کی اذان ۔ پہلی اذان کے بعد خطبہ دیا جاتا تھا ( دیکھئے روایت نمبر ۹۱۴۰۹۱۳) حضرت عثمان نے اس سے پہلے ایک اذان اور بڑھا دی تا کہ لوگ جمعہ کے لئے آنے کی تیاری کر سکیں اور انہیں خطبہ سننے کا پورا موقع ملے۔ باب ۲۲ : الْمُؤَذِّنُ الْوَاحِدُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ جمعہ کے دن ایک مؤذن ہونا ۹۱۳: حَدَّثَنَا أَبُو أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۱۳: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُوْنُ بن ابی سلمہ ماجشون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ سے، زہری نے سائب بن یزید سے روایت کی کہ یہ الَّذِي زَادَ التَّأْذِينَ الثَّالِثَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ اللهِ حِيْنَ كَثُرَ أَهْلُ جمعہ کے دن تیسری اذان بڑھ بڑھائی تھی۔ الْمَدِينَةِ وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ ﷺ مُؤَذِّنٌ غَيْرَ مدینہ کے باشندے زیادہ ہو گئے تھے اور نبی صلی اللہ وَاحِدٍ وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِيْنَ علیہ وسلم کا صرف ایک ہی مؤذن تھا اور جمعہ کے دن يَجْلِسُ الْإِمَامُ يَعْنِي عَلَى الْمِنْبَرِ۔ اذان اس وقت ہوتی جب امام بیٹھتا یعنی منبر پر۔ رضى عن اطرافه ۹۱۲، 915، 916۔ ی۔ اس وقت یہ عبارت "قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الزَوْرَاء ۔۔۔۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۵۰۶)