صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 298
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۹۸ ۱۱ - كتاب الجمعة بَاب ١٥ : مِنْ أَيْنَ تُؤْتَى الْجُمُعَةُ وَعَلَى مَنْ تَحِبُ کہاں سے جمعہ میں آیا جائے اور کس پر جمعہ واجب ہوتا ہے؟ لِقَوْل اللهِ جَلَّ وَعَزَّ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاة کیونکہ الله عز وجل فرماتا ہے: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ { فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرَ جب جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارا جائے تو الله }۔(الجمعة: ١٠) اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے چل پڑو۔وَقَالَ عَطَاء إِذَا كُنْتَ فِي قَرْيَةٍ جَامِعَةٍ اور عطاء بن ابی رباح) نے کہا: جب تم ایسی بستی فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَحَقِّ میں ہو جس میں جمعہ ہوتا ہو اور وہاں جمعہ کے دن نماز عَلَيْكَ أَنْ تَشْهَدَهَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ أَوْ کے لئے بلایا جائے تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم لَمْ تَسْمَعْهُ وَكَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جمعہ میں حاضر ہو۔اذان کو تم نے سنا ہو یا نہ سنا ہو اور فِي قَصْرِهِ أَحْيَانًا يُجَمَعُ وَأَحْيَانًا لَا حضرت انس رضی اللہ عنہ کبھی اپنے گھر میں بھی جمعہ يُجَمِّعُ وَهُوَ بِالزَّاوِيَةِ عَلَى فَرْسَحَيْنِ پڑھتے اور کبھی نہ پڑھتے۔حالانکہ ان کا گھر زاویہ میں تھا جو بصرہ سے دو فرسخ ( چھ میل ) تھا۔٩٠٢: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ حَدَّثَنَا :۹۰۲ احمد بن صالح) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عبدالله بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي کہا: عمرو بن حارث نے مجھے بتایا۔عبید اللہ بن ابو جعفر جَعْفَرٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ( بن زبیر ) سے مروی ہے کہ محمد بن جعفر بن زبیر نے حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْر عَنْ عَائِشَةَ ان کو بتایا۔انہوں نے عروہ بن زبیر سے ،عروہ نے نبی صلى الله۔زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَت كَانَ النَّاسُ ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت يَنْتَابُوْنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ مَنَازِلِهِمْ کی۔وہ کہتی تھیں : لوگ اپنے ڈیروں اور عوالی ( مضافات وَالْعَوَالِي فَيَأْتُوْنَ فِي الْغُبَارِ يُصِيبُهُمُ مدینہ سے باری باری جمعہ میں آتے تھے۔راستے میں الفاظ " فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللهِ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۴۹۴)